اب انجمن رنگ کے آداب ہیں کچھ اور
دیوانوں کو ہشیار کرو موسم گل ہے
نہرو کا ہندوستان
وزیر اعظم سنگاپور کا ایک تبصرہ اب میڈیا اور سوشیل میڈیا میں وائرل ہو رہا ہے ۔ وزیر اعظم سنگاپور نے اپنی پارلیمنٹ میں جمہوریت کے مسئلہ پر خطاب کرتے ہوئے ہندوستان کا حوالہ ملک کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو سے دیا ہے ۔ انہوں نے یہ ریمارک کیا کہ نہرو کے ہندوستان میںصورتحال ایسی ہوگئی ہے جہاںمیڈیا رپورٹس کے مطابق پارلیمنٹ کے لوک سبھا میں نصف سے زائد ارکان کے خلاف مقدمات ہیں جن میںعصمت ریزی اور قتل جیسے سنگین مقدمات بھی شامل ہیں۔ تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کردیا تھا کہ بیشتر ملزم قائدین کا کہنا ہے کہ یہ مقدمات سیاسی اغراض پر مبنی ہیں۔ تاہم ان کا یہ ریمارک ہندوستان کیلئے قابل قبول نہیں ہے ۔ سرکاری ذرائع نے وضاحت کردی ہے کہ وزیر اعظم سنگاپور کا ریمارک ناقابل قبول ہے اور اس مسئلہ کو حکومت سنگاپور سے رجوع کیا جا رہا ہے ۔ در اصل سنگاپور کی پارلیمنٹ میں جمہوریت کے ساتحکام پر مباحث ہو رہے تھے جس کا جواب دیتے ہوئے وزیر اعظم نے یہ ریمارکس کئے ۔ ان کا کہنا تھا کہ جمہوریت کیلئے کوششیں اور مہم تو انتہائی سرگرم انداز میں شروع ہوتی ہے اور لوگ اس کیلئے بہت جذباتی بھی ہوتے ہیں لیکن وقت گذرتے گذرتے عوام کی دلچسپی بھی کم ہو جاتی ہے ۔ سیاسی راستے بدل جاتے ہیں۔ جمہوری عمل کی وقعت کو گھٹا دیا جاتا ہے اور اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ سیاستدانوں کی اہمیت و وسعت بھی گھٹ جاتی ہے ۔ سنگاپور کے وزیر اعظم نے جو ریمارکس کئے ہیں وہ ان کی اپنی شخصی رائے ہوسکتے ہیں لیکن کسی بھی بیرونی لیڈر کو یا کسی بھی ملک کے سربراہ حکومت کو ہماری جمہوریت یا داخلی حالات پر تبصرہ کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہے ۔ تاہم اس کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ہمارے ارکان پارلیمنٹ کو اس میں زیادہ نشانہ بنایا گیا ہے ۔ یہ حقیقت ہے کہ ہمارے ملک میں کئی ارکان پارلیمنٹ اور ارکان اسمبلی ایسے ہیں جن کے خلاف سنگین نوعیت کے مقدمات درج ہیں۔ ان مقدمات کی یکسوئی اور فیصلے میں بھی کئی برس کا وقت ضائع کردیا جاتا ہے جس سے متاثرین انصاف سے محروم ہوجاتے ہیں۔
جہاں تک نہرو کے ہندوستان کا تذکرہ ہے اس پر کسی کو اعتراض کرنے میں احتیاط سے کام لینا چاہئے ۔ پنڈت نہرو ہندوستان کے اول وزیر اعظم رہے ہیں اور انہوں نے ملک کی آزادی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا ۔ اس کے علاوہ انہوں نے اپنے دو روزارت عظمی میں ملک کی ترقی کیلئے بنیاد رکھنے جیسا کام کیا تھا ۔ ملک کی معیشت کو مستحکم کرنے اور ملک میںصنعتیں اور کار خانے قائم کرنے کیلئے انہوں نے پہل کی تھی ۔ ان کی کوششوں کو آئندہ قائم ہونے والی حکومتوں نے آگے بڑھایا اور ملک کی ترقی کی راہ پر بتدریج سفر شروع کیا تھا ۔ ہندوستان ایسا ملک ہے جس کی شناخت مختلف ممالک میں مختلف انداز میں کی جاتی ہے ۔ اگر جنوبی افریقہ کی بات کی جائے تو شائد وہاں کے لوگ گاندھی جی سے زیادہ واقف رہے ہیں اور وہ شائد گاندھی جی کے حوالے سے ہندوستان کو جانتے ہیں۔ کسی اور ملک میںکسی اور لیڈر کو زیادہ پسند کیا جاتا ہو ۔ جنوبی افریقہ کے لیڈر نیلسن منڈیلا کو ساری دنیا جانتی ہے لیکن اس پر جنوبی افریقہ والوں کو کوئی اعتراض نہیں ہوا ہے ۔ تاہم کچھ گوشوں کو شائد نہرو کا ہندوستان جو جملہ ہے وہ زیادہ پسند نہیں آ رہا ہے ۔ اس پر تنقیدیں بھی ہو رہی ہیں۔ پنڈت نہرو سے ویسے بھی کئی گوشوں کو الرجی پائی جاتی ہے ۔ آج آزادی کے 70 سال سے زائد کا عرصہ گذر جانے کے باوجود ملک کی ناکامیوں کیلئے کچھ گوشوں کی جانب سے پنڈت نہرو کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے اپنی ناکامیوں کو چھپانے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ ایسے لوگ اس ریمارک کو پسند نہیں کر رہے ہیں۔
یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ دنیا کے کسی بھی ملک کو ہندوستان کے کسی بھی داخلی مسئلہ میں کسی طرح کا تبصرہ کرنے کا یا ریمارک کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے ۔ بیرونی ممالک کو ایسے تبصروں سے گریز کرنا چاہئے لیکن جہاں تک ہماری اپنی بات ہے ہمیں اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ ہم اپنے آپ کو بہتر بنانے کی کوشش کریں۔ دنیا کسی منفی حوالے سے نہیں بلکہ ہماری مثبت شناخت کے طور پر ہمارا حوالہ دینے کیلئے مجبور ہوجائے ۔ اگر ہم میں کچھ خامیاں ہیں تو ہمیں ان کو بہتر بنانے پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ دنیا کے سامنے ہمیں یا ہمارے ملک کے حالات پر کسی طرح کے منفی ریمارکس کی گنجائش ہی موجود نہ رہے ۔ نہرو کے ہندوستان کے جملے پر بھی کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہئے ۔
