بے زباں ہوگئے زباں والے
مصلحت کے لبوں پر ہیں تالے
سابق وزیر اعظم پاکستان عمران خان مسلسل نئے پاکستان کا نعرہ دیا کرتے تھے ۔ ان کا دعوی تھا کہ وہ ایک ایسے پاکستان کی تعمیر پر توجہ کئے ہوئے ہیں جہاں عوام کو مہنگائی کی مار سہنی نہیں پڑے گی ۔ بجلی کی قلت کو دور کرلیا جائیگا ۔ عوام کو بیروزگاری کا مسئلہ نہیں ہوگا ۔ نوجوانوںکو خاطر خواہ ملازمتیں فراہم کی جائیں گی ۔ ملک میں فنڈز کی کوئی کمی نہیں ہوگی ۔ ترقیاتی کام تیزی سے آگے بڑھائے جائیں گی ۔ غربت کو ختم کرنے کی کوششیں کی جائیں گی ۔ عوام کو صحت کی دیکھ بھال کی سہولیات فراہم کرنے میں کوئی مسئلہ درپیش نہیںہوگا ۔ غرض یہ کہ انہوں نے مسلسل عوام کو خواب دکھانے کی کوشش کی ہے ۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ عمران خان کو خواب پورے کرنے کیلئے وقت نہیں مل سکا یا اس میں ان کی توقعات سے زیادہ رکاوٹیں پیدا کرنے کی کوشش کی گئی جس کے نتیجہ میں نئے پاکستان کی تشکیل ممکن نہیں ہوسکی ۔ آج بھی ہم صورتحال کا جائزہ لیں تو یہ بات سامنے آجاتی ہے کہ پاکستان بھی وہی ہے اور اس کو درپیش مسائل بھی وہی ہیں۔ کئی دہوں سے عوام کے جو مسائل رہے تھے آج بھی وہی برقرار ہیں۔ کئی حکومتیں ملک میں قائم ہوئی اور زوال کا شکار ہوگئیں تاہم عوام کے مسائل کی یکسوئی کسی نے بھی نہیں کی ۔ ملک میں نومولود بچوں کو تغذیہ بخش غذا نہیں ملتی جس کی وجہ سے ان کی شرح اموات اب بھی بڑھی ہوئی ہے ۔ خواتین کی صحت کے معاملہ میں بھی پاکستان بہت پیچھے ہی ہے ۔ تعلیم اور خاص طور پر خواتین کو تعلیم یافتہ بنانے کے معاملے میں بھی پاکستان میں کوئی پیشرفت نہیں ہوئی ہے ۔ چند متمول خاندان ہیں جن کی خواتین اور لڑکیاں اعلی تعلیم یافتہ ہیں لیکن عام افراد کیلئے اعلی تعلیم کا حصول اب بھی ایک مشکل خواب ہی کہا جاسکتا ہے ۔ ان امور پر پاکستان میں یکے بعد دیگر قائم ہونے والی حکومتوں نے کوئی خاطر خواہ کارروائی نہیں کی اور نہ ہی ان مسائل کو حل کرنے کیلئے سنجیدگی سے کوششیں کی گئی تھیں۔ ملک میں 23 وزرائے اعظم بن گئے لیکن کوئی بڑے 23 ترقیاتی پراجیکٹس شروع نہیں ہوسکے ہیں۔ یہ ضرور ہے کہ ہر وزیر اعظم کی دولت ا ور ان کے بنگلوں اور گاڑیوں کی تعداد میںضرور اضافہ ہوا ہے ۔
عمران خان نے عوام کے ساتھ جو وعدے کئے تھے اس کی تکمیل کیلئے انہوں نے کوششیں ضرور کی ہیں۔ ان کے سامنے جو چیلنجس تھے ان سے کوئی انکار نہیںکرسکتا ۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ عمران خان کی حکومت میں بھی کچھ مفاد پرست اور نا اہل لوگ ضرور شامل تھے جن کے نتیجہ میں ترقیاتی کاموںکو آگے بڑھانے میں مدد نہیں مل پائی ہے ۔ عمران خان کے ہاتھ بھی بندھے ہوئے دکھائی دئے ہیںلیکن یہ ایک اٹل حقیقت ہے اور اس سے کسی کو انکار کی گنجائش نہیں ہے کہ نئے پاکستان کا وعدہ محض وعدہ رہا ہے اور اس سمت میںکوئی پیشرفت نہیں ہوسکی ہے ۔ پاکستان کے نوجوان آج بھی مشکل حالات کا شکار ہیں۔ غربت اور افلاس کے معاملے میں بھی پاکستان کے موقف میں کچھ بہتری نہیں آئی ہے ۔ دور دراز کے اور سرحدی علاقوں کی صورتحال تو اور بھی ابتر ہے ۔ ملک میں بجلی کی قلت عام بات ہے ۔ اس کو دور کرنے کیلئے بھی کسی نے سنجیدگی سے کوشش نہیں کی ۔ ہر حکومت میں بلند بانگ دعوے کئے گئے اور نت نئے وعدے کئے گئے لیکن ان کی تکمیل پر کسی بھی حکومت نے توجہ نہیں کی ۔ عوام کو محض وعدو ں سے مطمئن کرنے اور تسلیاں دیتے ہوئے اپنی حکومت کو برقرار رکھنے پر سبھی نے توجہ کی تھی جس کے نتیجہ میں پاکستان کی حالت میں کوئی سدھار نہیں آیا ہے اور عوام کی مشکلات اور ان کے مسائل اب بھی ویسے ہی برقرار ہیں جیسے کئی دہے پہلے ہوا کرتے تھے ۔
بین الاقوامی سطح پر پاکستان یکا و تنہا ہوکر رہ گیا ہے ۔ عالمی مالیاتی ادارے پاکستان پر بھروسہ کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ وہ روس کے ساتھ دوستی کرنے کی تگ و دو کرتا ہے تو امریکہ کی مخالفت اسے سنبھلنے نہیں دیتی اور امریکہ سے دوستی بڑھاتا ہے تو چین کے ساتھ معاملات بگڑ جاتے ہیں۔ اس صورتحال نے پاکستان کو انتہائی مشکل صورتحال کا شکار کر رکھا ہے ۔ نئے پاکستان کی تعمیر کیلئے ضروری تھا کہ عمران خان کو بھی وقت دیا جاتا ۔ عمران خان بھی زیادہ سنجیدگی سے کوشش کرتے ۔ اپوزیشن اور ملک کے عوام بھی اس میں ساتھ دیتے لیکن ایسا ہوا کچھ بھی نہیں ہے اور جہاں سے چلے تھے پھر وہیں آکر رک گئے ہیں۔ نئے پاکستان کا خواب دیکھنے والوں کو مایوسی تو ہوئی ہے لیکن اب دیکھنا یہ ہے کہ نئی حکومت جو شہباز شریف کی قیادت میں تشکیل پائی ہے وہ اس معاملے میں کچھ کرپاتی ہے یا نہیں۔
