نیوکلیئر بم استعمال کرنے ایران کی اسرائیل کو دھمکی

   

تہران : ایران نے نیوکلیئر بم کی تیاری کے حوالے سے اہم اعلان کردیا ہے ۔ ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے مشیر کمال خرراجی نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو ان کا ملک اپنی نیوکلیئر پالیسی کو تبدیل کرنے سے پیچھے نہیں ہٹے گا ۔ ابھی تک نیوکلیئر بم بنانے کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے لیکن اگر ایران کے وجود کو خطرہ لاحق ہوا تو ہماری فوجی پالیسی کو بدلنا ہوگا ۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اسرائیل نے ہماری نیوکلیئر تنصیبات پر حملہ کیا تو ہمارا جواب سخت ہوگا ۔ قابل ذکر ہے کہ یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران اور اسرائیل کے درمیان محاذ آرائی کی فضا تیز ہوتی جارہی ہے ۔ اس کی وجہ شام میں ایرانی سفارت خانے پر حالیہ اسرائیلی بمباری ہے ۔ اس کے نتیجہ میں تہران نے تل ابیبی پر سینکڑو ں ڈرون اور میزائل داغے ۔ IAEA کی جانب سے ایران کو اس کے نیوکلیئر پروگرام سے دور کرنے کی کوششوں کے زیادہ نتائج برآمد نہیں ہوئے ۔اس تنظیم کے سربراہ رافیل گروسی نے ایران سے شدید ناراضگی کا اظہار کیا اور کہا کہ ایران مذاکرات میں بالکل تعاون نہیں کررہا ۔ گزشتہ سال ایران کے نامعلوم علاقوں میں یورینیم کے ایٹم مل تھے ۔ ایران نے کہا ہے کہ وہ ان کی تحقیقات میں تعاون کرے گا لیکن گروسی نے کہا کہ وعدہ پورا نہیں کیا گیا ۔ اس تناظر میں سپریم لیڈر کے مشیر کے ضرورت پڑنے پر ایٹمی بم استعمال کرنے کے بیان نے سنسنی پیدا کردی ہے ۔