نیٹ پیپر لیک کی وزیراعظم مودی اور وزیرتعلیم پر ذمہ داری:کانگریس

   

نئی دہلی، 22 مئی (یو این آئی) کانگریس نے الزام لگایا ہے کہ نیٹ۔یو جی 2026 امتحان کے پیپر لیک معاملے میں حکومت نے پارلیمانی کمیٹی کے سامنے غلط بیان دیا ہے اور 2024 کے پیپر لیک کی سچائی کو چھپانے کی کوشش کی ہے ، جس سے لاکھوں طلباء کا نقصان ہوا ہے ، اس لیے وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو اس کی ذمہ داری لینی چاہیے۔پارٹی نے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ مودی حکومت نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے ) کے ذریعے امتحانی دھاندلیوں اور پیپر لیک کے معاملات کی سچائی کو دبانے کا کام کر رہی ہے اور نیٹ-یو جی 2026 امتحان میں پیپر لیک کے معاملے کو مسترد کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے ۔کانگریس کے محکمہ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے جمعہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر کہا کہ 2018 میں این ٹی اے کی تشکیل کے بعد سے ہی مودی حکومت اور اس کا نظام پیپر لیک مافیا کے ساتھ ملی بھگت کر کے این ٹی اے کے ذریعے منعقد کیے جانے والے امتحانات میں بڑے پیمانے پر ہونے والی بے ضابطگیوں اور دھاندلی کی سچائی کو دبانے میں لگا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا رپورٹوں کے مطابق، این ٹی اے کے ڈائریکٹر جنرل نے ایک پارلیمانی کمیٹی کے سامنے دعویٰ کیا ہے کہ نیٹ-یو جی 2026 امتحان کا پیپر لیک نہیں ہوا تھا۔رمیش نے کہا کہ اگر یہ دعویٰ سچ ہے تو یہ بے حد شرمناک اور چونکا دینے والی بے ایمانی ہے ، کیونکہ امتحان سے پہلے مبینہ طور پر ایک ‘گیس پیپر’ طلباء کے درمیان گردش کر رہا تھا، جس میں اصل امتحان میں آئے درجنوں سوالات شامل تھے ۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر اسے پیپر لیک نہیں مانا جا رہا ہے ، تو پھر اسے کیا کہا جائے گا اور حکومت اب اسے مستردکرنے کی کوشش کیوں کر رہی ہے ۔
کانگریس رہنما نے الزام لگایا کہ مودی حکومت اس سے پہلے بھی نیٹ-یو جی 2024 میں سامنے آنے والی بڑے پیمانے کی بے ضابطگیوں کو دبانے کی کوشش کر چکی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اس وقت مؤثر کارروائی کی گئی ہوتی تو شاید نیٹ-یو جی 2026 کی یہ صورتحال ٹالی جا سکتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ 2024 میں جن مبینہ دھوکہ دہی والے علاقوں کا ذکر ہوا تھا، ان میں راجستھان کا سیکر نمایاں تھا اور وہی علاقے 2026 میں بھی سامنے آئے ہیں۔رمیش نے کہا کہ اسی سلسلے میں مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) نے یو جی سی-نیٹ 2024 امتحان میں بے ضابطگیوں سے انکار کرتے ہوئے کلوزر رپورٹ داخل کی، جبکہ امتحان کو اسی وقت این ٹی اے نے منسوخ کر دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ تفتیشی ایجنسیوں کے رویے سے نیٹ جانچ میں انصاف کو یقینی بنانے کے عمل پر بھروسہ نہیں ہوتا۔رمیش نے کہا کہ ملک کے لاکھوں نوجوانوں کیلئے این ٹی اے اب ‘نیشنل ٹراما ایجنسی’ بن چکا ہے اور وزارتِ تعلیم کے دیگر اداروں کی صورتحال بھی بہتر نہیں ہے ۔ انہوں نے الزام لگایا کہ تعلیمی نظام میں پیشہ ورانہ مہارت کے بجائے نظریاتی قربت کو زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے ۔