نیپال ‘ ہندو پاک کے مابین ثالث کا رول ادا کرنے تیار

   

دونوں ملکوں کو مذاکرات سے مسائل کی یکسوئی کا مشورہ ‘ سارک کے احیاء کا عزم
کٹھمنڈو 25 جنوری ( سیاست ڈاٹ کام ) نیپال نے آج پیشکش کی کہ وہ ہندوستان اور پاکستان کے مابین ثالث کا رول ادا کرنے تیار ہے ۔ نیپال کا کہنا ہے کہ ان دونوں ممالک کیلئے ضروری ہے کہ وہ اپنے مسائل کی یکسوئی کیلئے بات چیت کریں۔ نیپالی حکومت کے ایک ذریعہ نے کہا کہ کسی بھی مسئلہ کی یکسوئی کیلئے بات چیت ہی بہترین راستہ ہے ۔ اختلافات ہوسکتے ہیں لیکن انہیں بات چیت سے حل کیا جاسکتا ہے ۔ اگر ضروری ہو تو ہم مصالحت کار کا رول بھی ادا کرسکتے ہیں۔ ذرائع نے کہا کہ مسائل کی بہتر یکسوئی دونوں ملکوں کے مابین صرف بات چیت کے ذریعہ ہی ہوسکتی ہے ۔ ہم اس میں اہم رول ادا کرسکتے ہیں لیکن بہتر یہی ہوگا کہ دونوں فریق راست رابطے بحال کریں۔ ہندوستان اور پاکستان کے مابین کشیدگی میں ہندوستان کی جانب سے دستور کے دفعہ 370 کو حذف کئے جانے کے بعد اضافہ ہوگیا تھا جس کے نتیجہ میں جموں و کشمیر کو خصوصی موقف حاصل تھا ۔ ہندوستان کے اس اقدام پر پاکستان نے شدید رد عمل کا اظہار کیا ہے اور اس نے ہندوستانی سفیر کو واپس روانہ کرتے ہوئے سفارتی تعلقات کی سطح کو گھٹا بھی دیا ہے ۔ ذرائع نے کہا کہ جب ہم ساتھ آئیں گے ‘ بیٹھیں گے اور خیالات کا تبادلہ ہوگا تو مسائل کو حل کیا جاسکتا ہے ۔ ہر صورتحال میں ہمکو ساتھ مل کر بات چیت کے ذریعہ مسائل کو حل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے بصورت دیگر حالات ابتر ہوسکتے ہیں۔ ساوتھ ایشین اسوسی ایشن برائے علاقائی تعاون ( سارک ) چوٹی کانفرنس کے تعلق سے غیر یقینی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نیپالی حکومت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اس تنظیم میں نئی جان ڈالنے کی اور غلط فہمیوں کو دور کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سارک تنظیم ختم نہیں ہوئی ہے ۔ یہ ابھی باقی ہے ۔ صرف یہ بات ہے کہ ہم نے ملاقات نہیں کی ہے ۔ امید ہے کہ ہم اس میں نئی جان ڈالیں گے اس کا احیاء عمل میں لائیں گے ۔ سارک کی آخری چوٹی کانفرنس 2014 میں منعقد ہوئی تھی جو اسلام آباد میں ہوئی تھی تاہم جموں و کشمیر میں اسی سال 18 ستمبر کو فوجی کیمپ پر حملے کے بعد سے ہندوستان نے حالات کی وجہ سے اس چوٹی کانفرنس میں شرکت سے معذوری کا اظہار کیا ہے ۔
اسلام آباد چوٹی کانفرنس میں بنگلہ دیش ‘ بھوٹان اور افغانستان نے بھی شرکت سے معذوری ظاہر کی تھی جس پر اسے منسوخ کردیا گیا تھا ۔