اراضی پر قبضہ کیا گیا تھا اور تعمیر غیر قانونی تھی ۔ عہدیداروں کا استدلال ۔ تلگودیشم کی انتقامی کارروائی ۔ وائی ایس آر کانگریس کا الزام
حیدرآباد 23 جون(سیاست نیوز) آندھراپردیش کیپٹل ریجن ڈیولپمنٹ اتھاریٹی اور منگل گیری تاڈے پلی میونسپل کارپوریشن نے آج صبح کی اولین ساعتوں میں 870 مربع میٹر پر وائی ایس آر سی پی کے قبضہ کو برخواست کرکے اس جگہ کو اپنے قبضہ میں لے لیا۔ آندھراپردیش میں حکومت کی تبدیلی کے بعد اس کاروائی کے سلسلہ میں کہا جا رہاہے کہ وائی ایس آر سی پی کے دفتر کی تعمیر کیلئے تیار ڈھانچہ کو اتھاریٹی اور بلدی عہدیداروں کی نگرانی میں مکمل طور پر منہدم کرکے مقبوضہ جگہ کو حاصل کرلیاگیا ہے۔ وائی ایس آر سی پی کے زیر تعمیر آفس کو جس کی چھت ڈالی جانی تھی منہدم کرنے پر وائی ایس آر سی پی نے حکومت کی آمرانہ کاروائی قراردیتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے عدالت کے احکامات کی پرواہ کئے بغیر من مانی کاروائیاں انجام دی جا رہی ہیں۔ سابق چیف منسٹر جگن موہن ریڈی نے اپنے X اکاؤنٹ کے ذریعہ بلڈوزر کاروائی کی ویڈیو پوسٹ کی اور کہا کہ ریاست میں قانون نام کی کوئی شئے باقی نہیں ہے اور نہ عدالتی احکام کی کوئی قدر ہے۔ انہوں نے اس کاروائی کو تلگودیشم حکومت کی انتقامی کاروائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ گذشتہ یوم وائی ایس آر سی پی نے آندھراپردیش ہائی کورٹ سے رجوع ہو کر اس زیر تعمیر عمارت کے خلاف کوئی کارروائی نہ کرنے کے احکام حاصل کئے تھے اس کے باوجود آج یہ کاروائی انجام دی گئی۔ ذرائع کے مطابق تلگودیشم نے ریاست میں اقتدار حاصل کرنے کے بعد امراوتی کو ریاست کے دارالحکومت کے طور پر ترقی دینے کا اعلان کرکے آندھراپردیش کیپٹل ریجن ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کو متحرک کیا تھا جس کے نتیجہ میں اتھاریٹی کے عہدیداروں نے وائی ایس آر سی پی کی جانب سے قبضہ کرکے کی جانے والی اس تعمیر کو نوٹس دے کر منہدم کردیا ۔ ضلع گنٹور کے تاڈے پلی منڈل میں اس اراضی پر عہدیداروں کا کہناہے کہ سرکاری اراضی پر قبضہ کرکے کی جارہی اس تعمیر کو منہدم کیا گیا جو کہ اتھاریٹی کی ذمہ داری ہے۔ وائی ایس آر سی پی سربراہ جگن موہن ریڈی اور دیگر قائدین نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے تلگودیشم پر انتقامی سیاست کا الزام عائد کیا اور کہا کہ وائی ایس آر سی پارٹی کے ریاستی دفتر کی تعمیر کا کام جو قریب الختم تھا اس کو منہدم کروایا گیا ہے۔3