وادی کشمیر میں مساجد اور انتظامی کمیٹیوں کی تفصیلات اکٹھا کی جائیں

   

٭ انتظامی کمیٹیوں کے نظریاتی الحاق کا بھی پتہ چلایا جائے
٭ پولیس عہدیداروں کو ہدایت ‘ پٹرول پمپس کی تفصیلات بھی طلب
٭ اضافی فورسیس کی تعیناتی سکیوریٹی ڈرل کا حصہ ۔ مرکز کا بیان

سرینگر / نئی دہلی 29 جولائی ( سیاست ڈاٹ کام ) جموں و کشمیر انتظامیہ نے پولیس سے کہا ہے کہ وہ وادی میں مساجد کی تفصیلات فوری طور پر پیش کرے جبکہ وادی میں مرکز نے حال ہی میںاضافی دستے تعینات کئے ہیں جس کے بعد یہ قیاس آرائیاں شروع ہوگئی ہیں کہ ریاست کو خصوصی موقف دینے والے دفعہ 35A پر کوئی فیصلہ ہوسکتا ہے ۔ وادی میں پائی جانے والی بے چینی کے دوران مرکزی وزیر جتیندر نسگھ نے آج کہا کہ اضافی 10 ہزار سکیوریٹی عملہ کی تعیناتی در اصل سکیوریٹی ڈرل کا حصہ ہے ۔ انہوں نے اس مسئلہ پر غیر ضروری بیان بازیوں کا نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی پر الزام عائد کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان دونوں جماعتوں کو عوامی تائید سے محرومی کا اندیشہ لاحق ہے۔ نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی نے مرکز سے اضافی دستوں کی تعیناتی کے بعد دفعہ 35A سے متعلق سوال کرنے شروع کردئے۔ نیشنل کانفرنس صدر فاروق عبداللہ نے وزیر اعظم مودی سے ملاقات کا وقت طلب کیا ہے ۔ محبوبہ مفتی نے اس مسئلہ پر ریاستی جماعتوں کا متحدہ محاذ بنانے کی وکالت کی ہے ۔ بی جے پی کی مرکزی قیادت بھی منگل کو ریاستی قائدین کا ایک اجلاس منعقد کرنے والی ہے جس میںریاست میں سیاسی ماحول پر تبادلہ خیال کیا جائیگا ۔ اس کے علاوہ ریاست میں انتخابات کی تیاریوں پر بھی غور ہوگا ۔ علاوہ ازیں ریاستی انتظامیہ نے اتوار کی رات ایک حکمنامہ جاری کرکے وادی کے پانچ زونل سپرٹنڈنٹس پولیس سے کہا کہ وہ شہر کی مساجد اور ان کی انتظامی کمیٹیوں کی فہرست پیش کریں۔ ایک اور حکمنامہ بھی جاری کیا گیا جو سوشیل میڈیا تک پہونچ گیا جس میں پولیس آفیسروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ وادی میں ٹیکسیوں کی مسافرین کو منتقل کرنے کی گنجائش اور پٹرول پمپس پر فیول کی گنجائش کے تعلق سے تفصیلات پیش کریں۔ پولیس عہدیداروں کو اپنے اپنے دائرہ کار میں آنے والی مساجد اور ان کی انتظامی کمیٹیوں کی تفصیلات ایک طئے شدہ پروفارما میں داخل کرنے کو کہا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ عہدیداروں سے کہا گیا ہے کہ وہ مساجد کمیٹیوں کے نظریاتی الحاق کے تعلق سے بھی تفصیلات پیش کریں۔ یہ احکام حالانکہ راز کے ہیں لیکن یہ سوشیل میڈیا تک پہونچ گئے ہیں اور کچھ عہدیداروں نے کہا کہ انہیں اب تک ایسی کوئی تحریری ہدایت نہیں مل سکی ہے ۔