اہلیہ گیتانجلی آنگمودہلی ہائیکورٹ سے رجوع ، علاج پر عدم اطمینان کا اظہار
نئی دہلی۔19؍جولائی ( ایجنسیز ) لداخ کے معروف سماجی و ماحولیاتی کارکن سونم وانگ چوک کی اہلیہ گیتانجلی آنگمو نے اپنے شوہر کی صحت اور علاج سے متعلق دہلی ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔ انہوں نے عدالت سے فوری سماعت کی درخواست کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ صفدرجنگ ہاسپٹل میں سونم وانگ چوک کو جس طرح رکھا گیا ہے وہ ایک طرح کی غیر قانونی حراست کے مترادف ہے۔ انہوں نے عدالت سے مطالبہ کیا کہ وانگ چوک کو کسی نجی ہاسپٹل منتقل کرنے کی اجازت دی جائے تاکہ انہیں بہتر طبی سہولتیں فراہم کی جا سکیں کیونکہ صفدرجنگ ہاسپٹل کی انتظامیہ پر انہیں اعتماد نہیں رہا۔ ہاسپٹل کے ہیلتھ بلیٹن میں اصل اعداد و شمار ظاہر نہیں کیے گئے بلکہ صرف یہ بتایا گیا کہ پوٹاشیم کی مقدار کم ہے۔ انہوں نے عدالت سے یہ بھی درخواست کی کہ انہیں ان ڈاکٹروں سے ملاقات کی اجازت دی جائے جو وانگ چوک کا علاج کر رہے ہیں تاکہ وہ ان کی صحت کے بارے میں درست معلومات حاصل کر سکیں۔ قابل ذکر ہے کہ سونم وانگ چوک گزشتہ 21 روز سے جنتر منتر پر کوکروچ جنتا پارٹی کی جانب سے تعلیمی نظام میں اصلاحات کے مطالبہ کی حمایت میں بھوک ہڑتال پر بیٹھے تھے۔ ہفتہ کوان کی طبیعت اچانک زیادہ خراب ہونے کے بعد پولیس نے انہیں صفدرجنگ ہاسپٹل منتقل کیا۔ادھر سونم وانگ چوک کو جنتر منتر سے ہٹائے جانے کے معاملے پر اروند کجریوال نے کہا کہ حکومت کو طاقت کے استعمال کے بجائے بات چیت اور مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہیے تھا۔ایک اطلاع کے بموجب وانگ چوک کی اہلیہ نے یہ کہا کہ کسی وجہ سے وانگ چوک اگر کل ہونے والے احتجاج میں شامل نہیں ہوں گے تو وہ احتجاج کی قیادت کرنے کیلئے بھی تیار ہے۔
انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ جمہوری انداز میں اپنی آواز بلند کریں اور نوجوانوں کے مستقبل سے متعلق معاملات پر متحد ہوں۔دوسری جانب عام آدمی پارٹی کے سینئر لیڈر اور سابق نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا سمیت راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ نے بھی پولیس کارروائی پر اعتراض ظاہر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جمہوریت میں پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور حکومت کو انتظامی کارروائی کے بجائے مکالمے کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کرنا چاہیے۔