وانگ چُک کی بھوک ہڑتال ختم کرانا غیرجمہوری اقدام

   

کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے تلنگانہ ریاستی معاون سکریٹری تکلا پلی سرینواس راؤ کا بیان
ہنمکنڈہ ۔ 18 جولائی ۔ ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) کے تلنگانہ ریاستی معاون سکریٹری تکلاپلی سرینواس راؤ نے سماجی کارکن اور ماہرِ تعلیم سونم وانگ چُک کی بھوک ہڑتال کو پولیس کے ذریعہ زبردستی ختم کرائے جانے کی سخت مذمت کی ہے۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ لداخ کے عوام کے حقوق، تعلیمی نظام کی خامیوں اور عوامی مسائل پر سونم وانگ چُک کی پرامن جدوجہد کو طاقت کے زور پر روکنا جمہوری اقدار کے منافی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایک محبِ وطن اور دانشور کی جائز آواز سننے کے بجائے مرکزی حکومت نے آمرانہ طرزِ عمل اختیار کیا ہے۔ سرینواس راؤ نے کہا کہ نیٹ (NEET) امتحان کے پرچہ لیک ہونے اور امتحانات کے انعقاد میں سنگین ناکامیوں کی اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان فوری طور پر استعفیٰ دیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت اس معاملے میں مکمل شفافیت اختیار کرے۔ انہوں نے کہا کہ سونم وانگ چُک کی جانب سے اُٹھائے گئے مسائل صرف ایک فرد کے نہیں بلکہ ملک کے مستقبل اور تعلیمی نظام سے جڑے ہوئے ہیں، اس لیے سی پی آئی ان کی تحریک کی مکمل حمایت کرتی ہے۔ سی پی آئی رہنما نے مزید کہا کہ دہلی پولیس، دہلی ہائی کورٹ کے احکامات کی غلط تشریح نہیں کر سکتی۔ عدالت نے صرف سونم وانگ چُک کی صحت کی نگرانی کی ہدایت دی تھی، انہیں ان کی مرضی کے خلاف احتجاجی مقام سے ہٹانے کا کوئی حکم نہیں دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ دہلی پولیس کمشنر کی اچانک تبدیلی اور اس کے بعد پرامن احتجاج پر کارروائی سے یہ شبہات مضبوط ہوئے ہیں کہ حکومت طلبہ کی تحریک کو دبانا چاہتی ہے اور 20 جولائی کو پارلیمنٹ کی جانب مجوزہ مارچ کو ناکام بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ سرینواس راؤ نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر اپنی جابرانہ پالیسی ترک کرے، تمام پرامن مظاہرین کے جمہوری حقوق اور سلامتی کو یقینی بنائے، طلبہ تنظیموں سے بامعنی مذاکرات کرے، اور تعلیمی نظام کی بدحالی کی اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔