واگھا سے ہند۔افغان تجارت ناممکن: پاکستان

   

Ferty9 Clinic

اسلام آباد۔8 اگست (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان نے یہ کہہ کر افغانستان کو ہندوستان سے براہ واگھا سرحد مصنوعات درآمد کرنے کی اجازت نہیںدی جائے گی کیوں کہ یہ ٹرانزٹ تجارت دورخی معاملہ ہے ناکہ سہ رخی۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق وزیراعظم پاکستان کے مشیر برائے کامرس عبدالرزاق دائود نے چہارشنبہ کو ایک پریس کانفرنس کے دوران یہ بات کہی۔ انگریزی اخبار دی نیوز نے بھی مسٹر دائود کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے افغانستان کو واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ وہ تجارتی رابطہ کو براہ واگھا سرحد انجام نہ دے کیوں کہ یہ ٹرانزٹ تجارت سہ رخی نہیں بلکہ دورخی معاملہ ہے جس میں کسی تیسرے فریق کو شریک نہیں کیا جاسکتا۔ یاد رہے کہ عبدارزاق دائود جاریہ ماہ افغانستان کا دورہ کرنے والے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان واگھا سرحد سے تجارت کرنے تک رسائی کا معاملہ اٹھانا چاہتا تھا لیکن ہونے افغانستان کو سمجھادیا ہے کہ وہ اس دو رخی معاملہ کو ایک ایسے فورم میں نہ اٹھائے جو سہ رخی نہ ہوا اور افغانستان نے اس پر رضامندی کا بھی اظہار کیا تھا۔ ہندوستان سے تجارت مسدود ہونے کے معاملہ پر پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے صرف اتنا کہا کہ وہ تمام پہلوئوں پر غور کرنے کے بعد ہی اطمینان بخش جواب دے سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ پاکستان نے چہارشنبہ کو ہندوستانی ہائی کمشنر اجے بساریہ کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا تھا کیوں کہ جموں و کشمیر کے آرٹیکل 370 کو یکلخت منسوخ کرنے کے ہندوستان کے فیصلے پر پاکستان نے ہندوستان کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات کو کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پاکستان نے ہندوستان میں تعینات اپنے سفیر کو بھی واپس بلایا ہے کہ جبکہ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان دورخی تجارت کا سلسلہ بھی ختم کیا جارہا ہے۔