15 مقدمات میں ایک ملزم بری، 4 کو جیل کی سزاء ، 10 کو جرمانہ عائد
حیدرآباد۔/16 جون، ( سیاست نیوز) خصوصی عدالت نے ریاست میں ارکان پارلیمنٹ و ارکان اسمبلی کے خلاف درج 395 کے منجملہ 380 مقدمات کو خارج کردیا جس سے پولیس کی کارکردگی کا ثبوت ملتا ہے۔ تلنگانہ کی پولیس کو ملک کی نمبر ون پولیس ہونے کا حکومت اور وزراء کی جانب سے دعویٰ کیا جاتا ہے۔ استغاثہ مناسب شواہد پیش نہ کرنے سے 380 مقدمات کو خارج کردیا گیا ۔ فورم فار گُڈ گورننس نے الزام عائد کیا کہ پولیس اس میں مناسب کارروائی میں ناکام ہوگئی ہے۔ مقدمات کو خارج کردینا پولیس کی کارکردگی کا آئینہ دار ہے۔ ایف جی جی کے سکریٹری ایم پدمنابھ ریڈی نے بتایا کہ ریاست تلنگانہ میں ارکان پارلیمنٹ و ارکان اسمبلی کے خلاف درج کردہ 395 مقدمات کی سماعت میں تیزی لانے کی سپریم کورٹ نے تلنگانہ حکومت کو ہدایت دی تھی جس پر حکومت نے 2 فروری 2018 کو خصوصی عدالت کا قیام عمل میں لایا۔ خصوصی عدالت نے مقدمات کی سماعت کرتے ہوئے فیصلے جاری کئے ہیں ۔ پدمنابھ ریڈی نے بتایا کہ یہ تمام تفصیلات قانون حق معلومات (آر ٹی آئی ) کے ذریعہ حاصل کی گئی ہیں۔ 380 مقدمات میں ملزمین کو بری کردیا گیا ہے۔ 15 مقدمات میں ایک مقدمہ میں ملزم کو عدالت نے قصوروار قرار دیا کیس کو معاف کرتے ہوئے ملزم کو بری کردیا۔ مابقی 14 مقدمات میں 4 ملزمین کو جیل کی سزاء ہوئی اور 10 مقدمات میں جرمانے عائد کئے گئے ۔ جن ملزمین کو جیل کی سزاء سنائی گئی انہوں نے ہائی کورٹ سے رجوع ہوکر حکم التواء حاصل کیا۔ مابقی ملزمین نے جرمانہ ادا کیا۔395 مقدمات میں صرف 3.5 فیصد کو ہی سزاء سنائی گئی۔ جج نے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ 380 مقدمات میں استغاثہ نے مناسب ثبوت پیش نہیں کئے۔ یہ ہمارے محکمہ پولیس کی کارکردگی ہے۔ خارج کردہ مقدمات پر محکمہ پولیس نے اپیل نہیں کی اگر ایسا ہے تو پولیس مقدمات کیوں دائر کرتی ہے۔ فورم فار گُڈ گورننس کی جانب سے حاصل کردہ تفصیلات میں پتہ چلا ہے کہ بی جے پی کے رکن اسمبلی راجہ سنگھ کو ایک سال ، ٹی آر ایس کی رکن پارلیمنٹ ایم کویتا، ٹی آر ایس کے رکن اسمبلی ڈی ناگیندر اور سابق رکن اسمبلی پی وینکٹیشورلو کو 6 ماہ کی سزاء ہوئی۔ اس کے علاوہ مختلف جماعتوں کے قائدین کومٹ ریڈی، وینکٹ ریڈی، ایم گوپال، ومشی چند ریڈی، پریم سنگھ راٹھور، جوگو رامنا، بی ملیا ، ڈی ونئے بھاسکر، راجہ سنگھ، پی شنکر راؤ کو عدالت نے جرمانہ عائد کیا۔ن