خوفزدہ ہونے کے بجائے بروقت علاج اور احتیاط ضروری، ماہرین کی رائے
حیدرآباد۔/23 اکٹوبر، ( سیاست نیوز) دونوں شہروں میں وبائی امراض تیزی سے پھیل رہے ہیں اور ڈینگو کے علاوہ ٹائیفائیڈ کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ شہر کے سرکاری دواخانوں سے مختلف عوارض بالخصوص سردی ، زکام، کھانسی اور بخار کے ساتھ اعضاء شکنی کی شکایات سے رجوع ہونے والے مریضوں کی تعداد میں دوگنا سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا جانے لگا ہے۔ علاوہ ازیں خانگی ڈاکٹرس سے رجوع ہونے والے مریضوں کی تعداد میں بھی زبردست اضافہ ریکارڈ کیا جارہا ہے۔ ماہر اطباء کا کہنا ہے کہ موسم کی تبدیلی کے علاوہ اچانک سردی میں ہونے والے اضافہ کے سبب یہ مسائل پیدا ہورہے ہیں۔ ان امراض سے خوفزدہ ہونے کے بجائے شہریوں کو احتیاط برتنی چاہیئے۔ ڈاکٹرس کے مطابق موسم کی تبدیلی کے دوران ان امراض کا پھیلنا کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن گذشتہ برسوں میں جس طرح سے کورونا وائرس کی دہشت عوام میں پیدا ہوئی تھی اسی وجہ سے عوام خدشات کا شکار ہونے لگے ہیں لیکن خدشات کا شکار ہونے کے بجائے اگر مریضوں کو بروقت ڈاکٹر سے رجوع کرتے ہوئے علاج شروع کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں اندرون دو یوم مریض مکمل صحت یاب ہوسکتے ہیں۔ ڈینگو اور ٹائیفائیڈ کا شکار ہونے والے مریضوں کو احتیاط اور معائنوں کے ساتھ ان کا علاج کروایا جانا ضروری ہے کیونکہ ان امراض کی صورت میں قوت مدافعت کمزور ہوتی ہے جو کہ دیگر عوارض کا شکار ہونے کا موجب بن سکتی ہے۔ م