سرکاری دواخانوں میں طبی سہولیات کا فقدان، بھٹی وکرامارکا اور سریدھر بابو کا الزام
حیدرآباد۔/27 اگسٹ، ( سیاست نیوز)کانگریس لیجسلیچر پارٹی قائد بھٹی وکرامارکا نے تلنگانہ حکومت پر وبائی امراض پر قابو پانے کیلئے احتیاطی اقدامات میں ناکامی کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر حکومت نے محکمہ صحت کو یکلخت نظرانداز کردیا ہے جس کے نتیجہ میں عوام سرکاری دواخانوں میں بنیادی علاج کی سہولتوں سے محروم ہوچکے ہیں۔ گزشتہ ایک ماہ سے ریاست میں وبائی امراض عروج پر ہیں اور سرکاری دواخانے غریب افراد کو بہتر علاج فراہم کرنے سے قاصر ہیں۔ اس صورتحال کیلئے حکومت ذمہ دار ہے۔ بھٹی وکرامارکا نے رکن اسمبلی ڈی سریدھر بابو اور دیگر قائدین کے ہمراہ منچریال گورنمنٹ ہاسپٹل کا دورہ کیا اور طبی سہولتوں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے مریضوں اور ڈاکٹرس سے بات چیت کرتے ہوئے معلومات حاصل کیں۔ مریضوں نے شکایت کی کہ ڈاکٹرس اور ادویات کی کمی کے سبب وہ سرکاری ہاسپٹل سے مایوس ہوچکے ہیں۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے بھٹی وکرامارکا نے کے سی آر حکومت پر محکمہ صحت کو نظرانداز کردینے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ سابق حکومتوں نے سرکاری ہاسپٹل قائم کئے اور غریبوں کیلئے آروگیہ سری اسکیم متعارف کی تھی۔ کے سی آر نے آروگیہ سری اسکیم کو ختم کردیا ہے جس کے سبب عوام کارپوریٹ ہاسپٹلس سے رجوع ہونے پر مجبور ہیں۔ کارپوریٹ دواخانوں کو بقایا جات کی عدم ادائیگی کے نتیجہ میں اسکیم پر عمل آوری کو روک دیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ منچریال ہاسپٹل میں 60 ڈاکٹرس ہونے چاہیئے صرف 20 ڈاکٹرس موجود ہیں۔آصف آباد اور دیگر علاقوں سے عوام یہاں علاج کے لئے پہنچ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مریضوں کو کریم نگر ہاسپٹل جانے کا مشورہ دیا جارہا ہے۔ اس طرح منچریال ہاسپٹل صرف ریفرل ہاسپٹل میں تبدیل ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہاسپٹل میں صفائی ملازمین 20 ماہ کی تنخواہ سے محروم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی دواخانوں میں ڈی ایم ایف ٹی کے تحت سینکڑوں کروڑ روپئے موجود ہیں لیکن حکومت خرچ کرنے سے گریز کررہی ہے۔