سرکاری دفاتر میں اردو درخواستوں کو قبول کیا جائے، رکن اسمبلی کو یادداشت
جگتیال۔ شمو ویلفیر اسوسی ایشن جگتیال ضلع کی جانب سے ایک یادداشت رکن اسمبلی ڈاکٹر ایم سنجے کمار کو پیش کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ریاستی حکومت نے اردو زبان کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دیا ہے۔ لہذا ضلع جگتیال کے ہر دفتر میں تمام محکموں کے دفاتر میں ہر منڈل کے آفس بورڈ پر اردو تحریر کرنے کے احکامات جاری کریں۔ ہر آفس میں اردو درخواستوں کو قبول کیا جائے۔ ضلع جگتیال میں ایک یونانی دواخانہ کا قیام عمل میں لایا جائے۔ اردو میڈیم بوائز جونیر کالج کا قیام عمل میں لایا جائے۔ حج ہاوز کا قیام عمل میں لایا جائے۔ پاسپورٹ کاؤنٹر کھولا جائے۔ بے روزگار نوجوانوں کو چھوٹے لون منظور کئے جائیں۔ خواتین کے لئے علیحدہ مہیلا منڈل فاسٹ کورٹ کا قیام اور خواتین کمیشن میں اردو داں خواتین کا تقرر عمل میں لایا جائے۔ جگتیال کے سرکاری دواخانہ میں دل کے ڈاکٹر کا تقرر عمل میں لایا جائے ۔ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے فاصلاتی سنٹر کا قیام عمل میں لایا جائے۔ ضلع جگتیال میں اور ہر منڈل سطح پر وقف اراضیات کا سروے کرایا جائے کیونکہ ریاستی وزیر اعلیٰ نے 2 دن قبل اسمبلی میں وقف اراضیات کا سروے کرانے کا تیقن دیا ہے۔ ضلع جگتیال میں قبرستانوں کی صاف صفائی کے لئے احکامات دیئے جائیں اور روشنی کا انتظام باؤنڈری وال کا انتظام کیا جائے۔ اس موقع پر شمو ویلفیر اسوسی ایشن کے قائدین میں ڈاکٹر سید غوث شمو صدر، ڈاکٹر محمد ایوب خان نائب صدر، محمد عزیز خان اجو جنرل سکریٹری، سید احمد ممبر، محمد مسعود علی، دیگر میں محمد عبدالعلیم ایڈوکیٹ، محمد شعیب بیگ مجاہد اردو، محمد جمیل، محمد یعقوب ابو وغیرہ موجود تھے۔
