عالمی ادارہ کا ’’رائزنگ تلنگانہ ‘‘ میں حکومت کیساتھ کام کرنے کا عزم ، مکتوب کی اجرائی
حیدرآباد۔ 6 فروری (سیاست نیوز) ورلڈ اکنامک فورم نے چیف منسٹر تلنگانہ اے ریونت ریڈی کی قائدانہ صلاحیتوں کی ستائش کی ہے۔ ریاست کو ترقی دینے ان کے ویژن اور ترقی کے نشانے کو حاصل کرنے جو حکمت عملی تیار کی گئی ہے، اس کو ناقابل فراموش قرار دیا گیا، بالخصوص عالمی مسائل جیسے کہ عوام کی خوشحالی، شہری حمل و نقل کی سہولتیں اور مساوی اقتصادی ترقی جیسے مسائل کو بین الاقوامی پلیٹ فارم پر پیش کیا ہے۔ وہ دوسروں کیلئے قابل تقلید ہیں۔ ورلڈ اکنامک فورم نے ایک مکتوب جاری کرتے ہوئے چیف منسٹر کے اقدامات کی ستائش کی ۔ ریونت ریڈی کی دور اندیشی، موثر سوچ و فکر اور سماج کے فائدے کیلئے ریاست میں جو پروگرامس شروع کئے گئے ہیں، ان کی تعریف کی گئی۔ مکتوب میں بتایا گیا کہ تلنگانہ کی ترقی کیلئے جن منصوبوں پر عمل کیا جا رہا ہے، بالخصوص مستقبل کو ذہن میں رکھتے ہوئے شہر کے ٹرانسپورٹ نظام کو بہتر بنانے، عوام کو بہتر معیار زندگی فراہم کرنے جو حکمت عملی تیار کی گئی ، وہ معاشرے میں مساوات کو فروغ دینے، تمام شعبوں کو ترقی دینے، ماحولیات کے تحفظ اور پائیدار ترقی سے متعلق جن پالیسیوں کو متعارف کیا گیا ہے، وہ قابل ستائش ہے۔ ریونت ریڈی نے آئندہ چند سال میں تلنگانہ کی معیشت ایک ٹریلین ڈالر بن جانے کا دعویٰ کرتے ہوئے ورلڈ اکنامک کانفرنس میں شرکت کرنے والے سرمایہ کاروں کو متاثر کیا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی، ہنر، گرین اِنرجی اور پائیدار مساوی ترقی میں تلنگانہ کو لیڈر بنانے کی جو حکمت عملی تیار کی گئی ہے، وہ بھی قابل تعریف ہے۔ رائزنگ تلنگانہ 2050ء کے ویژن کو پورا کرنے بہترین پالیسی تیار کی گئی ہے۔ حیدرآباد کو مصنوعی ذہانت (AI) کا ہب بنانے کا منصوبہ تیار کیا گیا جو سرمایہ کاروں کو حیدرآباد اور تلنگانہ کی جانب راغب کررہا ہے۔ ورلڈ اکنامک فورم نے کہا کہ ہم ، چیف منسٹر تلنگانہ ریونت ریڈی کی جانب سے مستقبل کے جو منصوبے تیار کئے گئے، اس کو عملی جامہ پہنانے حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے کے منتظر ہیں۔ فورم کے مکتوب پر کانگریس قائدین نے مسرت کا اظہار کرکے اس کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ چیف منسٹر ریونت ریڈی تلنگانہ کو دنیا کیلئے ایک ماڈل کے طور پر متعارف کرانے میں کامیاب ہوئے ، فورم کی ستائش اس کا ثبوت ہے۔ چیف منسٹر کے نئے منصوبوں، اختراعی اسکیمات، عوامی بہبود کی پالیسیوں اور ترقیاتی پروگراموں کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا جارہا ہے۔ 2