ورنگل میںفرضی سرٹیفکیٹس تیار کرنے والی 12رکنی ٹولی گرفتار

   

Ferty9 Clinic

ملک کے مشہور یونیورسٹی کے جعلی اسناد اور دیگر اشیاء ضبط ،پولیس کمشنر ڈاکٹر ترون جوشی کی پریس کانفرنس

ورنگل ۔پولیس کمشنر ورنگل ڈاکٹر ترون جوشی نے کہاکہ ملک کے مختلف تصدیق شدہ یونیورسٹیز سے متعلق جعلی سرٹیفیکیٹس تیار کرکے ان جعلی سرٹیفیکیٹس کے ذریعہ طلباء کو بیرونی ممالک روانہ کرنے والی 12افراد پر مشتمل ٹولی کو ورنگل کمشنریٹ ٹاسک فورس پولیس نے گرفتار کرلیا ہے ان کے پاس سے ملک کی مختلف مشہور یونیورسٹیز کے 212جعلی سرٹیفیکیٹ ،6لیپ ٹیاپ ،1آئی پیاڈ ،2پرنٹرس ،5سی پی یو،25نقلی ربر اسٹامپ ،2پرنٹر رورلس ،5پرنٹر کلر باٹلس ،1لامنیشن مشین ،12سیل فونس ،10لامنیشن گلاس پیپرسکو ضبط کرلیا گیا ہے ۔جن افراد کو گرفتار کیا گیا ہے ان میں اہم ملزم ڈی ارون آر ٹی سی بس اسٹانڈ روڈ محبوب آباد ،آکولہ روی اویناش نرسم پیٹھ ورنگل ،ایم سریکانت ریڈی وڈے پلی ہنمکندہ ،اے مہیش دوگنڈی منڈل ورنگل ،مرزا اختر علی بیگ پوسٹل کالونی صوبیداری ہنمکنڈہ ،ایم سچن مڑی کنڈہ ہنمکنڈہ ،سلونی عرف رادھا گھٹ کیسر حیدر آباد ،سدھا کر ریڈی، ایم سواتی ، اکسائز کالونی صوبیداری ہنمکنڈہ ،بی سرینواس گاندھی نگر ہنمکنڈہ ،این پرنئے گندلا سنگارم ہنمکنڈہ ،اتم کرن صوبیداری ہنمکنڈہ شامل ہیں ۔حیدر آباد سے تعلق رکھنے والا سرینواس یادو ،ہنمکنڈہ کا کوندارپوکرشنا اور نریندر فرار ہیں ۔کمشنر ڈاکٹر ترون جوشی نے پولیس کمشنریٹ کانفرنس ہال میں پریس کانفرنس میں تفصیلات سے واقف کرواتے ہوئے کہا کہ د اررون ، اور آکولہ روی اویناش اہم ملز م ہیں ۔کمپیوٹر کا بہتر نالج رہنے پر یہ لوگ محبوب آباد مرکز میں انٹرنٹ سنٹر چلاتے تھے ۔انٹر نیٹ سنٹر سے ملنے والی آمدنی ناکافی ہورہی ہے کم وقت میں زیادہ پیسہ کمانے کا فیصلہ کیا ۔اس ضمن میں دونوں اہم ملزمین اپنے پاس موجود کمپیوٹر کے ذریعہ شروع شروع میں چھوٹے چھوٹے سرٹیفیکیٹس تیار کرتے تھے ۔اس طرح سے نقلی سرٹیفیکٹس سے معقول آمدنی مل رہی تھی ملزمین سرٹیفیکٹ کے طالب افراد کو مختلف یونیورسٹیز ،ڈریموڈ انجینئرنگ کالج سے تعلق رکھنے والے نقلی سرٹیفیکٹس تیار کرکے فراہم کررہے تھے ۔اہم ملزمین د اررون ، اور آکولہ روی اویناش کے تعاون سے ہنمکنڈہ حدودکے چند کنسلٹنسی ادارے بیرون ملک میں تعلیم کے خواہشمند افراد اور طلباء کو بغیر کسی تعلیمی قابلیت کے ان کے پسند کے یونیورسٹی کے سرٹیفکیٹس تیار کرنے کرنے کو کہا ۔اہم ملزمین نقلی سرٹیفیکٹ تیار کرکے انہیں فراہم کرتے تھے ۔ایک سر ٹیفکیٹ کو یہ لوگ 1لاکھ تا 4لاکھ میں فروخت کرتے تھے ۔یہ ملزمین کسی کو شک نہ ہو اس کے لئے بیرونی ممالک کے سرٹیفکیٹ اور درکار تمام چیزوں کو اسٹامس کو آن لائن کے ذریعہ خرید تے تھے ۔اس کی اطلا ع ملنے پر ٹاسک فورس اڈیشنل ڈی سی پی ویبھئو گائیکواڈ کی نگرانی میں ٹاسک فورس پولیس ان پر خصوصی نگاہ رکھی ۔ایک ہی وقت میں ٹولی سے وابستہ کنسلٹنسی اداروں پر دھاوا کیا ۔نقلی سرٹفیکیٹ کی تیاری کا تمام راز کا انکشاف ہوا ۔اڈیشنل ڈی سی پی ویبھئو گائیکواڈ ،ٹاسک فورس انسپکٹرس سرینواس جی ،سنتوش ،ایس آئیز پریمانندم ،پریا درشنی ،ہیڈ کانسٹیبل شیام سندر ،کانسٹیبلس مہندر ،سراجن ،سرینواس ،سریکانت ،علی، کی پولیس کمشنر نے ستائش کی ۔