ورون گاندھی ‘ بی جے پی کی دوریاں

   

Ferty9 Clinic

بی جے پی کی 80 رکنی قومی عاملہ کا آج اعلان کردیا گیا ۔ اس میںاترپردیش سے تعلق رکھنے والے دو ارکان لوک سبھا منیکا گاندھی اور ورون گاندھی کو علیحدہ کرتے ہوئے مرکزی وزراء اسمرتی ایرانی اور جیوتر آدتیہ سندھیا کو شامل کرلیا گیا ۔ حالیہ کچھ عرصہ سے ورون گاندھی جس طرح کے بیانات دے رہے ہیں اس کو دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ بی جے پی ان سے دوری اختیار کرتی جا رہی ہے ۔ ورون گاندھی بھی ابتداء میں بہت زیادہ سرگرم رہنے کے بعد کچھ عرصہ گمنامی میں چلے گئے تھے ۔ ان کی خاموشی طویل ہوگئی تھی ۔ تاہم کچھ ہفتوں سے وہ دوبارہ سرگرم ہوگئے ہیں اور ان کی یہ سرگرمیاں بی جے پی کیلئے مشکلات کا باعث بنتی جا رہی ہے ۔ ورون گاندھی جس لب و لہجہ میں بات کر رہے ہیں وہ بی جے پی کے خیال میں اپوزیشن کا لب و لہجہ ہے ۔ انہوں نے کئی اہم مسائل پر ایسے بیانات دئے ہیں جن سے بی جے پی اتفاق نہیں کرتی ۔ مدھیہ پردیش میں ایک چوڑی فروش کو نشانہ بنایا گیا تھا اور مارپیٹ کی گئی تھی ۔ اس پر ورون گاندھی نے ٹوئیٹر پر کہا تھا کہ ایسا کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے ۔ انہوں نے اس واقعہ کی مذمت کی تھی ۔ اسی طرح اب تازہ ترین واقعہ میں ورون گاندھی نے لکھیم پور کھیری میں پیش آئے بہیمانہ واقعہ کی مذمت کی تھی ۔ انہوں نے کسانوں کو گاڑی سے روند دئے جانے کا ویڈیو پیش کرتے ہوئے اس خیال کا اظہار کیا تھا کہ یہ ویڈیو بہت زیادہ واضح ہے ۔ اس طرح انہوں نے یہ کہنے کی کوشش کی تھی کہ مرکزی وزیر اجئے مشرا کے فرزند آشیش مشرا نے ہی یہ گاڑی کسانوں پر دوڑائی تھی جس میں اموات ہوئی ہیں۔ واضح رہے کہ مرکزی وزیر اجئے مشرا اور ان کے فرزند مسلسل انکار کر رہے ہیں کہ وہ واقعہ کے وقت وہاں موجود تھے ۔ بی جے پی کے ذمہ دار قائدین کی جانب سے اس واقعہ کی مذمت کرنے سے تک گریز کیا جا رہا ہے اور مجرمانہ خاموشی اختیار کی جا رہی ہے ۔ کچھ گوشوں کی جانب سے متاثرین سے اظہار ہمدردی کرنے یا ان کو انصاف دلانے کی بات کرنے کی بجائے مرکزی وزیر اور ان کے فرزند کے دفاع کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
ان حالات میں اگر ورون گاندھی اس واقعہ کی مذمت کر رہے ہیں اور خاطیوں کو سزا دینے کی بات کر رہے ہیں تو وہ بی جے پی کے موقف سے اختلاف کر رہے ہیں اور شائد یہی بات پارٹی کو ہضم نہیں ہو رہی ہے ۔ ورون گاندھی حالیہ عرصہ میں حقائق پر مبنی اور انصاف پسندانہ ٹوئیٹس کر رہے ہیں اور بی جے پی ان سے عملا دوری اختیار کرتی جا رہی تھی ۔ اب بی جے پی نے اپنی ناراضگی اور دوری کا باضابطہ اظہار انہیں قومی عاملہ سے علیحدہ کرتے ہوئے کردیا ہے ۔ یہی نہیں پارٹی نے ان کی والدہ اور کانگریس کی کٹر ناقد منیکا گاندھی کو بھی قومی عاملہ سے علیحدہ کردیا ہے ۔ ایک ایسے وقت میں جبکہ اترپردیش میں اسمبلی انتخابات کیلئے چند ماہ کا وقت ہی رہ گیا ہے گاندھی خاندان کے دو ذمہ دار ارکان پارلیمنٹ کی قومی عاملہ سے دوری اور انہیں بتدریج حاشیہ پر کردینے کی کوششوں کا انتخابات پر اثر ہوسکتا ہے ۔ اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اپنے اپنے حلقہ انتخاب اور دوسرے حلقوں پر بھی منیکا گاندھی اور ورون گاندھی کا اثر ہے اور وہ عوامی چہرے بھی کہے جاسکتے ہیں۔ نہرو ۔ گاندھی خاندان سے تعلق کی وجہ سے ان کو سیاسی اعتبار سے اہمیت حاصل رہی ہے اور بی جے پی نے بھی انہیں اسی وجہ سے اپنی صفوں میں جگہ دی تھی ۔ منیکا گاندھی کو اسی وجہ سے مرکزی وزارت بھی دی گئی تھی ۔ ورون گاندھی کو بھی لوک سبھا کیلئے اسی وجہ سے منتخب کروایا گیا تھا ۔ تاہم ایسا لگتا ہے کہ اب بی جے پی ان کی بیان بازیوں کی وجہ سے ان سے بتدریج کنارہ کشی کرتی جا رہی ہے ۔
ورون گاندھی جس لب و لہجہ میں اور جس انداز سے ٹوئیٹس کرتے ہوئے اظہار خیال کر رہے ہیں اس سے بھی پتہ چلتا ہے کہ وہ بھی بی جے پی کیلئے کٹھ پتلی بن کر رہنا نہیںچاہتے ۔ وہ اپنی رائے کو موثر ڈھنگ سے عوام میں پیش کرتے ہوئے اپنی شناخت کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ اسی بات کو بی جے پی برداشت کرنے تیار نہیں ہے ۔ ورون گاندھی بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نظر نہیں آتے ۔ ایسے میں اگر آئندہ وقتوں میں بی جے پی ورون گاندھی یا منیکا گاندھی کے خلاف کوئی تادیبی کارروائی کرتی ہے تو یہ عجب نہیں ہوگا یا پھر اگر ورون گاندھی پارٹی سے علیحدگی اختیار کرتے ہیں تو یہ بھی نا ممکن نہیں ہوگا ۔ نہرو۔ گاندھی خاندان سے بی جے پی کی دوری کا نتیجہ کیا برآمد ہوتا ہے یہ تو آئندہ وقت ہی بتا پائے گا۔