وزراء کی موجودگی میں بی آر ایس ارکان اسمبلی ایک دوسرے سے اُلجھ پڑے

   

حیدرآباد۔/12 جنوری، ( سیاست نیوز) بی آر ایس سے منحرف ارکان اسمبلی کے خلاف پارٹی قائدین کی ناراضگی کا آج اس وقت کھل کر مظاہرہ دیکھنے کو ملا جب کریم نگر کلکٹریٹ میں منعقدہ اجلاس کے موقع پر بی آر ایس رکن اسمبلی پی کوشک ریڈی اور جگتیال کے منحرف رکن اسمبلی ڈاکٹر سنجے کے درمیان جھڑپ ہوگئی اور دونوں نے ایک دوسرے پر حملہ کی کوشش کی۔26 جنوری سے حکومت کی چار نئی اسکیمات کے سلسلہ میں ضلع کلکٹریٹ میں جائزہ اجلاس منعقد کیا گیا تھا جس میں ریاستی وزراء اتم کمار ریڈی، پونم پربھاکر اور ڈی سریدھر بابو شریک تھے۔ وزراء کی موجودگی کے درمیان دونوں ارکان اسمبلی کے درمیان بحث و تکرار نے جھڑپ کی شکل اختیار کرلی۔ پولیس نے مداخلت کرتے ہوئے حضورآباد کے رکن اسمبلی کوشک ریڈی کو اجلاس کے باہر لے گئے جس کے بعد صورتحال قابو میں آئی۔گڑبڑ اس وقت شروع ہوئی جب جگتیال کے رکن اسمبلی ڈاکٹر سنجے تقریر کیلئے اٹھے۔ بازو بیٹھے ہوئے حضور آباد رکن اسمبلی پی کوشک ریڈی نے مداخلت کی اور سوال کیا کہ آپ کس پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں۔ کوشک ریڈی نے سنجے کو اظہار خیال کیلئے موقع دینے کی مخالفت کی اور مائیک چھیننے کی کوشش کی۔ سنجے نے سوال کیا کہ انہیں اظہار خیال کیلئے مائیک کیوں نہ دیا جائے۔ جس پر کوشک ریڈی نے کہا کہ پہلے یہ بتائیں کہ آخر کس پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس مسئلہ پر دونوں ارکان اسمبلی میں بحث و تکرار ہونے لگی اور ایک مرحلہ پر کوشک ریڈی نے سنجے کو ڈھکیل دیا۔ جھڑپ کے شدت اختیار کرنے سے قبل پولیس اور اجلاس میں موجود قائدین نے مداخلت کرتے ہوئے کوشک ریڈی کو علحدہ کردیا۔ کوشک ریڈی دوبارہ رکن اسمبلی کے قریب پہنچ گئے اور عین ممکن تھا کہ وہ حملہ کردیں‘ پولیس نے فوری ہٹادیا اور رکن اسمبلی کو اجلاس گاہ سے باہر منتقل کردیا گیا۔ ریاستی وزراء نے کوشک ریڈی کے رویہ پر برہمی کا اظہار کیا۔ بعد میں کوشک ریڈی نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ منحرف رکن اسمبلی پہلے استعفی دیں اور پھر دوبارہ منتخب ہوکر دکھائیں۔1