مختلف پولیس اسٹیشنوں میں مقدمات درج ‘ تحقیقات کا آغاز ‘ سابق وزراء کی طلبی بھی ممکن
حیدرآباد۔12 ۔ ڈسمبر(سیاست نیوز) حکومت کی تبدیلی کے ساتھ ہی فائیلس کی منتقلی اور دفاتر میں موجود ساز وسامان کو منتقل کرنے کی کوشش کے علاوہ سرکاری فائیلوں کے سرقہ کے معاملہ میں پولیس کی جانب سے تحقیقات میں شدت پیدا کردی گئی ہے اور اسی دوران سابق وزیر افزائش مویشیاں سرینواس یادو کے او ایس ڈی کلیان نے تلنگانہ ہائی کورٹ سے رجوع ہوکر ضمانت قبل از گرفتاری کیلئے درخواست داخل کی ہے جبکہ گذشتہ یوم ڈپٹی کمشنر پولیس سنٹرل زون ڈی سرینواس نے بتایاتھا کہ انیمل ہسبنڈری کے دفترواقع مانصاحب ٹینک میں سرقہ کے واقعہ میں سابق وزیر کے او ایس ڈی کو ملزم بنایا گیا ہے۔ سابق وزیر سیاحت ‘ سابق وزیر تعلیم اور سابق وزیر افزائش مویشیاں کے دفاتر سے سامان کی منتقلی کے سلسلہ میں مختلف پولیس اسٹیشنوں میں درج کروائی گئی شکایات کے متعلق پولیس عہدیدارو ںنے بتایا کہ پولیس انتظامیہ اس خصوص میں تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے اور اب تین پولیس اسٹیشنوں میں مختلف افراد کے خلاف شکایات درج کروائی گئی ہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ وزارت تعلیم کے دفتر سے فائیلوں اور سامان کی منتقلی کو روکنے والے نوجوانوں نے سیف آباد پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کروائی گئی تھی جبکہ وزیر سیاحت کے دفتر سے سامان کی منتقلی پر رویندرا بھارتی کے قریب ٹرک روک کرنوجوانوں نے پولیس میں شکایت درج کروائی تھی اسی طرح نارائن گوڑہ پولیس میں بھی ایک اور مقدمہ درج کیا گیا ہے جس میں محکمہ سیاحت کے دفتر میں سرکاری فائیلوں کو نذرآتش کرنے کی شکایت موصول ہوئی ہے۔ پولیس کے مطابق شہر میں پیش آئے ان واقعات میں مختلف دفعات کے تحت پولیس نے علحدہ مقدمات درج کرلئے ہیں اور ان مقدمات میں 5 مشتبہ افراد کی اب تک نشاندہی کی گئی ہے ۔ عہدیداروں نے بتایا کہ سرکاری فائیلوں کو منتقل کرنے اور ان کے سرقہ کی کوشش کے علاوہ سرکاری املاک کو دفاتر سے منتقل کرنے کی تحقیقات کے دوران ضرورت پر پولیس کی جانب سے سابق وزراء پی سبیتا اندراریڈی ‘ سرینواس یادو و سرینواس گوڑ کو بھی طلب کیا جائے گا تاکہ ان کے بیان قلمبند کئے جاسکیں۔ پولیس عہدیداروں نے توثیق کی کہ جو شکایات ملی ہیں ان کی ابتدائی جانچ کے بعد ہی مقدمات کا اندراج کرکے تحقیقات کا آغاز کیا گیا ہے۔