نئی دہلی، 16 ستمبر (یو این آئی) قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے ) نے منگل کے روز وزیانگرم آئی ایس آئی ایس کیس میں ہندوستان بھر کی آٹھ ریاستوں میں متعدد مقامات پر تلاشی کی کارروائیاں کیں۔یہ کارروائیاں مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے انتہا پسندی اور کمزور نوجوانوں کو بھرتی کرکے دھماکہ خیز آلات آئی ای ڈی کے استعمال کے ذریعے دہشت گردی پھیلانے کی سازش سے منسلک ہیں۔ این آئی اے کی طرف سے 16 مقامات پر بڑے پیمانے پر کی گئی کارروائیوں میں، مربوط تلاشی کے دوران کئی ڈیجیٹل آلات، دستاویزات، نقد رقم اور قابل اعتراض مواد ضبط کیے گئے ۔ این آئی اے نے آندھرا پردیش پولیس کے ساتھ مل کر بیک وقت تلاشی کی منصوبہ بندی کی تھی اور آندھرا پردیش، تلنگانہ، تمل ناڈو، جھارکھنڈ، اتر پردیش، بہار، مہاراشٹرا اور دہلی کی ریاستوں میں احتیاط سے تلاشی لی تھی۔ یہ، ہندوستان میں دہشت گردی کے نیٹ ورک کو ختم کرنے کی سمت میں این آئی اے کی طرف سے اٹھایا گیا اہم قدم ہے ۔ ایک مہینے پہلے ہی، این آئی اے نے اس معاملے میں ایک اہم ملزم کو گرفتار کیا تھا۔ عارف حسین عرف ابو طالب کو 27 اگست کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ سعودی عرب کے شہر ریاض فرار ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔ تفتیش کے دوران پتہ چلا ہے کہ اس نے شریک ملزم کے ساتھ مل کر نیپال کی سرحد کے ذریعے ہتھیاروں کی فراہمی کا انتظام کرنے کی سازش کی تھی۔ این آئی اے اس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے ، جو ابتدائی طور پر پولیس نے جولائی 2025 سے ایک اور ملزم سراج رحمان کی گرفتاری کے بعد وجیانگرم میں درج کیا تھا۔ پولیس نے سراج کو اس وقت گرفتار کیا تھا جب اس کے پاس کیمیائی مادے پائے گئے تھے جن کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ آئی ای ڈی بنانے میں استعمال ہوتے ہیں۔ پوچھ تاچھ کے دوران، سراج نے حکومت ہند کے خلاف جنگ چھیڑنے کی سازش کا انکشاف کیا ، جس کے نتیجے میں ایک اور ملزم سید سمیر کو گرفتار کیا گیا۔ این آئی اے کی تحقیقات سے انکشاف ہوا کہ سراج اور سمیر دونوں انسٹاگرام ، فیس بک ، ٹیلیگرام ، سگنل اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے نوجوانوں کو ورغلانے میں ملوث تھے ۔ اس معاملے میں بھارتیہ نیا سنہیتہ (بی این ایس) دھماکہ خیز مواد سے متعلق ایکٹ اور یو اے (پی) ایکٹ کی مختلف دفعات کے تحت تحقیقات جاری ہیں۔