وزیراعظم سے سوال پوچھنا گناہ ؟

   

Ferty9 Clinic

ہم کیا کریں سوال یہ سوچا نہیں ابھی
وہ کیا جواب دیں گے یہ دھڑکا ابھی سے ہے
ملک بھر میں فرقہ وارانہ حالات کو بگاڑنے کی منظم سازشیںا ور کوششیں تیزی کے ساتھ کی جا رہی ہے ۔ کسی نہ کسی ریاست کے کسی نہ کسی شہر میںاچانک ہی فرقہ وارانہ ماحول کو پراگندہ کیا جا رہا ہے ۔ سماج میںنفرت پھیلائی جا رہی ہے ۔ مساجد کو نشانہ بناتے ہوئے ان پر بھگوا جھنڈے لگائے جا رہے ہیں۔ مزارات کو مسمارکرتے ہوئے وہاںمورتیاں بٹھائی جا رہی ہیں۔ اس کے بعد پولیس کی جانب سے جانبدارانہ اور متعصبانہ کارروائی کرتے ہوئے اقلیتوں ہی کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ انہیں کے نوجوانوںکو گرفتار کرکے مقدمات میںپھانسا جا رہا ہے ۔ جو مذہبی جلوس نکالے جا رہے ہیں ان کیلئے پہلے تو منتظمین کی جانب سے کوئی اجازت نہیں لی جا رہی ہے ۔ اس پر پولیس خاموش تماشائی ہے ۔ جلوس کو روکا نہیں جا رہا ہے ۔ پھر جلوسی عمدا مسلم آبادی والے علاقوں میں گھس کر شر انگیز نعرے لگا رہے ہیں۔ اس پر بھی پولیس کوئی مقدمہ درج نہیںکرتی ۔ حالانکہ ان پر عمدا حالات کو بگاڑنے اور فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کرنے کے مقدمات درج کئے جانے چاہئیں۔ لیکن ایسا ہو نہیں رہا ہے ۔ اس کے برخلاف اقلیتوں کے مکانات اور دوکانات کو منہدم کرتے ہوئے ان کی معیشت کو تباہ کیا جا رہا ہے اور ان کے سر سے سائبان چھینا جا رہا ہے۔ گذشتہ ایک تا دیڑھ مہینے میں سارے ملک کے حالات کو بگاڑ کر رکھ دیا گیا ہے ۔ عمدا اور منظم کوششیں کرتے ہوئے حالات خراب کئے جا رہے ہیں۔ اقلیتوں اور مسلمانوں کو نشانہ بناتے ہوئے ان میںخوف پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ انہیں ہر طرح سے نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ تجارت سے لے کر گھروں تک کو تباہ کیا جا رہا ہے ۔ جہاں کہیں اشرار اور فرقہ پرست عناصر کی کارروائیوں میں کوئی کسر باقی رہ جاتی ہے تو اسے پولیس اور نفاذ قانون کی ایجنسیاں پوری کرنے میں لگ جاتی ہے ۔ اس ساری صورتحال پر ملک کے متفکر شہریوں اور عوام میں تشویش کی لہر پائی جاتی ہے ۔ وہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ آخر ہم کہاں جا رہے ہیں؟۔ ہماری فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو کیا ہوگیا ۔ حکومت آخر کیوںخاموش تماشائی بنی ہوئی ہے ۔ حکومت کی جانب سے آخر کیوں کارروائی نہیں کی جاتی ۔
ان ہی سوالوں کو ملک کی 13 اپوزیشن سیاسی جماعتوں نے وزیر اعظم سے رجوع کیا تھا ۔ اپوزیشن کا سوال تھا کہ کیوںوہ اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ ویسے تو وزیراعظم معمولی سے معمولی بات پر ٹوئیٹ کرتے ہیں۔ تبصرے کرتے ہیںاور بیان دیتے ہیں لیکن ملک میں فرقہ وارانہ ماحول سنگین ہوتا جا رہا ہے ۔ ایک طرح سے حالات کوعمدا بگاڑا جا رہا ہے ۔ اس پر بھی وزیر اعظم خاموش ہیں ۔ انہوں نے اب تک نہ تشدد کی مذمت کی ہے اور نہ ہی خاطیوں کے خلاف غیرجانبدارانہ کارروائی کی ہدایت جاری کی ہے ۔ ملک میں پولیس کے رول پر کئی گوشوں کی جانب سے سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔ عدلیہ تک کہنے لگی ہے کہ پولیس اور نفاذ قانون کی ایجنسیوں کو سیاسی وابستگی سے بالاتر ہوتے ہوئے کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ ایسے میںاگر وزیراعظم اور وزیرداخلہ خاموشی اختیار کرتے ہیںاور حالات کو قابو میںکرنے کیلئے کوئی اقدامات نہیںکرتے اور نہ ہی اپنے کسی بیان کے ذریعہ عوام کو کوئی تیقن دیتے ہیںتوا ن کی خاموشی پر سوال پیدا ہونے لگتے ہیں۔ پولیس کی غیرجانبداری جس طرح مشکوک ہوگئی ہے اسی طرح حکومت کی خاموشی پر بھی سںوال پیدا ہونے لگے ہیں۔ اس پر حکومت کو جواب دینا پڑے گا ۔ ملک کے حالات کا خراب ہونا ایسا مسئلہ نہیں ہے جس پر حکومت کی خاموشی کا کوئی بھی جواز ہوسکتا ہے ۔
جب اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے حکومت سے سوال کیا جا رہا ہے تو بی جے پی کے قائدین کوئی واضح جواب دینے کی بجائے اپوزیشن کو تنقیدوں کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ اپنی حکومت کی کارکردگی پر جواب دینا ان کا فریضہ ہے ۔ اپوزیشن کا ذمہ ہے کہ وہ حکومت سے سوال پوچھے ۔ اس پر سیدھے جواب دیا جانا چاہئے ۔ کوئی وضاحت اگر ہو تو کی جانی چاہئے لیکن ایسا نہیںکیا جا رہا ہے ۔ الٹا اپوزیشن کو اور سوال پوچھنے والوں کو لتاڑا جا رہا ہے ۔ یہ ہماری جمہوریت اور وفاقی حکمرانی کے اصولوں سے مذاق ہے ۔ اس سے گریز کرنا چاہئے ۔ حکومت کو اور خود ملک کے وزیر اعظم کو صورتحال کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے اس پر جو سوال کئے جا رہے ہیں ان کا موثر اور سنجیدگی سے جواب دینا چاہئے ۔