ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشقِ امتحاں اور بھی ہیں
پاکستان میں اب تک اپوزیشن لیڈر رہے شہباز شریف کو بالآخر ملک کا وزیراعظم منتخب کرلیا گیا ہے ۔ 70 سالہ شہباز شریف کو پاکستان قومی اسمبلی میں بلامقابلہ وزیراعظم منتخب کیا گیا ہے ۔ سابق وزیر اعظم عمران خان کی تحریک عدم اعتماد کے ذریعہ بیدخلی کے بعد یہ انتخاب ضروری ہوگیا تھا ۔ حالانکہ عمران خان کی پارٹی پی ٹی آئی نے شاہ محمود قریشی کو وزارت عظمی امیدوار کے طور پر پیش کیا تھا تاہم بعد میںپی ٹی آئی کے تمام ارکان اسمبلی نے استعفی دینے کا اعلان کردیا اور کہا کہ وہ کرپٹ اور بدعنوان قائدین کے ساتھ ایوان کا حصہ نہیں رہ سکتے ۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ایسی حکومت کے ساتھ کام نہیں کرسکتے جو بیرونی ایجنڈہ کے تحت قائم کی گئی ہے ۔ یہ در اصل عمران خان کے اس الزام کا حوالہ تھا جس میں انہوںنے کہا تھا کہ پاکستان میں بیرونی طاقتیں حکومت تبدیلی کی خواہاں تھیں ۔ سیاسی بحران کے دوران پاکستان میں کافی کچھ ڈرامہ بازیاں دیکھنے میں آئیں۔ عمران خان نے تحریک عدم اعتماد پر رائے دہی کو ٹالنے کی حتی المقدور کوشش کی ۔ نت نئے طریقے اختیار کئے لیکن انہیں بالآخر اپنی شکست تسلیم کرتے ہوئے عہدہ چھوڑ دینا پڑا تھا ۔ سارے ڈرامہ کے دوران اپوزیشن کا کردار مستحکم رہا اور وہ عمران خان کی بیدخلی پر اٹل رہے تھے ۔ اب جبکہ اپوزیشن جماعتیں اپنے مقصد میں کامیاب ہوگئی ہیں اور شہباز شریف کو ملک کا وزیراعظم مقرر کردیا گیا ہے ایسے میں شہباز شریف کی ذمہ داریاں بہت زیادہ ہوگئی ہیں۔ شہباز شریف تین مرتبہ پاکستانی صوبہ پنجاب کے چیف منسٹر رہے ہیں اور انہیں حکمرانی کا تجربہ بھی ہے لیکن ملک کی سطح پر جو حالات ہیں وہ ان کیلئے بھی چیلنجس سے بھرپور ہونگے ۔ ان کیلئے حالات کو سنبھالنا اور اپنی حلیف جماعتوںکو ساتھ برقرار رکھنا آسان نہیں ہوگا ۔ کوئی ایک شعبہ بھی ایسا نہیںہے جس میں صورتحال اطمینان بخش کہی جاسکتی ہے ۔ ملک کے داخلی حالات انتہائی ناگفتہ بہ ہیں ۔ خارجہ پالیسی کے اعتبار سے بھی پاکستان عالمی سطح پر یکا و تنہا دکھائی دیتا ہے اور جہاںتک معیشت کی بات ہے تو یہ بہت ہی زیادہ ابتر صورتحال کا شکار ہے اور اس کو سنبھالنا سب سے بڑا چیلنج ہوگا ۔
حالانکہ سابقہ عمران خان حکومت میں ملک کی معیشت کو سدھارنے کیلئے بہت کچھ اقدامات کے دعوے کئے گئے ہیں۔ سابقہ حکومت نے اپنے دعووں کی تائید میں اعداد و شمار بھی پیش کئے تھے لیکن بظاہر جو صورتحال ہے وہ اطمینان بخش ہرگز نہیں کہی جاسکتی ہے ۔ معیشت کو سدھارنے کیلئے سب سے پہلے اقدامات کرنے ہونگے ۔ اس کیلئے فنڈز کی ضرورت ہوگی جس کی شدید قلت کا پاکستان کو سامنا ہے ۔ دیکھنا یہ ہوگا کہ شہباز شریف ملک کیلئے فنڈز کہاں سے حاصل کرتے ہیں اور عالمی سطح پر پاکستان کا جووقار مجروح ہوا ہے اور اس کی شبیہہ جو داؤ پر لگی ہے اسے بہتر بنانے کیلئے کس طرح کے اقدامات کرتے ہیں۔ داخلی سطح پر مہنگائی پر قابو پانے کیلئے بھی حکومت کو جنگی خطوط پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔ ملک کی جملہ گھریلو پیداوار کو بہتر بنائے بغیر اس صورتحال کو قابو میںکرنا شہباز شریف کیلئے بھی آسان نہیں ہوگا ۔ داخلی سطح پر لا اینڈآرڈر کی صورتحال کو بہتر بنانے پر بھی انہیں خاص توجہ دینے کی ضرورت ہوگی کیونکہ لا قانونیت اب بھی عروج پر دکھائی دیتی ہے ۔ فرقہ وارانہ تشدد اوردہشت گردانہ کارروائیاں اب بھی پاکستان میںختم نہیں ہوئی ہیں۔ وقفہ وقفہ سے یہ کارروائیاں انجام دی جاتی ہیں جن میں معصوم اور بے گناہ عوام کی جانیں تلف ہوتی ہیں۔ سیاسی بحران کے اثرات بھی بہت زیادہ گہرے ہوسکتے ہیںا ور ان کو بھی دور کرنا ہوگا ۔
ان سب انتظامی اور فوری توجہ کے طالب مسائل کے ساتھ ساتھ شہباز شریف کو اپنی اتحادی اور حلیف جماعتوںکو ساتھ رکھنے کے چیلنج کا بھی سامنا ہوگا ۔ پاکستانی سیاست کا جائزہ لینے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ یہاں سیاسی اتحاد کسی بھی وقت قائم کئے جاسکتے ہیں اور کسی بھی وقت اچانک ہی ختم بھی کئے جاسکتے ہیں۔ ایسا کئی مرتبہ دیکھنے میں بھی آیا ہے ۔ خود عمران خان حکومت بھی اپنی اتحادی جماعتوں کے انحراف کی وجہ سے زوال کا شکار ہوئی ہے ۔ ایسے میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ ساری تگ و دو کے بعد شہباز شریف نے وزارت عظمی حاصل تو کرلی ہے لیکن یہ پھولوں کی سیج نہیں بلکہ کانٹوں کا تاج ہے ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ جو چیلنجس درپیش ہیں ان سے شہباز شریف کس طرح سے نمٹ پاتے ہیں۔
