ہندوستان میں پیر کیر وز تک کرونا وائرس سے متاثرہونے والی کی تعداد 433تک پہنچ گئی تھی اوراب یہ بڑھ کر649ہوگئی ہے
نئی دہلی۔ جرمن سے تعلق رکھنے والی ایک ٹوئٹریوزر ماریہ ویرتھ‘ جس کو وزیراعظم نریندر مودی بھی فالو کرتے ہیں‘
کو پیر کے روز اس وقت ٹوئٹر کے دیگر یوزرس کی برہمی کا سامنا کرنا پڑا جب انہوں نے کرونا وائرس کی وباء کے پیش نظر کی جانے والی سماجی دوری کو رجعت پسند رواج چھوت اچھوت سے جوڑدیا‘
کرونا وائرس کی وباء نے اب تک 15408جانیں لی ہیں اور 353266لوگ عالمی سطح پر اس سے متاثرہوئے ہیں۔
ویرتھ نے 21مارچ کے روز ٹوئٹ میں کہاکہ ”سماجی دوری=کسی دوسری کوغیر ضروی چھونا نہیں۔
یاد کرو کس طرح ہندوؤں نے چھونے سے منع کرنے کے لئے قانون بنایاتھا؟”چھو ت اچھوت“کو زیان اورمسلمانوں خداؤں کے نام پر لاکھوں لوگوں کے مغرب کی جانب سے قتل کرنے سے بدتر قراردیاگیا تھا۔
اب؟ چین کا وائرس‘ کرونا الرٹ‘ ہندوؤں۔ ویرتھ جنھوں نے ’تھینک یو انڈیا‘ ایک جرمن عورت کا سفر برائے یوگی کی دانشمندی‘ نے مزید کہاکہ وہ پیدائش سے چھوت اچھوت کی مدافعت نہیں کرتی ہیں۔
انہوں نے لکھا کہ ”میں پیدائش سے چھوت اچھوت کی مدافعت نہیں کرتی ہوں۔ میراکہنا یہ قوانین ان لوگوں کو نہیں چھونے کے جو مردہ جانوروں کو ہٹاتے ہیں اور انہیں کھاتے ہیں وغیرہ۔سمجھیں‘
برطانوی لوگوں نے جس کی تلاش کی ہے وہ یہ ہے کہ اچھوت صرف ایک ”شیطان“ ہے‘لہذا انہوں نے اس کو مزید خوفناک بنادیاہے۔
بی ٹی ڈبلیو اس کی پیدائش کے مطابق میں اچھوت ہوسکتی ہوں“
Social distancing = not touching others unnecessarily.
Remember how Hindus were demonised for having rules whom not to touch?
"Untouchability" was portrayed as much worse than ki!!ing millions in the name of Xian &Muslm God by the West.
Now??#ChineseVirus#CoronaAlert #Hindus— Maria Wirth (@mariawirth1) March 21, 2020
Am not defending untouchability by birth
What I mean, rules not to touch someone who removes dead animals or eats them etc. make sense.
Untouchability was the only "evil" the British could find, so they made it look most terrible.Btw according to birth I would be untouchable.
— Maria Wirth (@mariawirth1) March 21, 2020
مصنف ورون گرور نے ماریا ویرتھ پر تنقید کی۔انہوں نے لکھا کہ”چھوت اچھوت“پیدائش کی بنیاد پر تشکیل پانی والی ایک برائی ہے جس میں ایک فرد /طبقہ اس بات کا اختیاررکھتا ہے کہ دوسرے کو ناپاک کہے۔
اس پر جبر کرسکے۔ ’سماجی دوری‘ ہر کسی نے اس بات کو تسلیم کرلیاہے کہ مساوی طور پر سب ناپاک ہیں۔آپ کوناپاک نہیں کرنا اور ہونا ہے۔ افسوس ہے‘ کچھ شرم کریں“
Social distancing = not touching others unnecessarily.
Remember how Hindus were demonised for having rules whom not to touch?
"Untouchability" was portrayed as much worse than ki!!ing millions in the name of Xian &Muslm God by the West.
Now??#ChineseVirus#CoronaAlert #Hindus— Maria Wirth (@mariawirth1) March 21, 2020
ایک اور ٹوئٹر صارف نے لکھاکہ”سماجی دوری=تیزی کے ساتھ پھیلنے والی بیماری کو روکنے کے لئے اٹھائے جانے والا احتیاطی قدم۔ چھوت اچھوت=اعلی ذات والوں کے ہندوؤں نے اقتدار کی برقراری اور نچلی ذات والوں کے استحصال کے لئے اٹھائے جانے والے اقدامات تاکہ سماج میں ”انہیں ان کی جگہ“ دیکھائی جاسکے۔
ماریہ ویرتھ=ویہ وہ ہیں جو دونوں کو سمجھ نہیں پائی ہیں“
https://twitter.com/ashoswai/status/1242072873306673153?s=20
This Kesariya Vilayti is using Corona to justify the inhuman Hindu practice of untouchability. Even goes on to advocate untouchability against people who deal with dead animals. Ideally she can be arrested for this#stupidity https://t.co/o7XNwbQ1qW
— Aditya Menon (@AdityaMenon22) March 23, 2020
Wrong. Absolutely wrong. Inexcusably wrong.
Social distancing ≠ justification for untouchability.
Don't use #CoronavirusPandemic to legitimise caste discrimination, which is a social crime. A sin against God and humanity. https://t.co/lamZiNaLUr
— Sudheendra Kulkarni (@SudheenKulkarni) March 23, 2020
Does this women even know what untouchability was? Social distancing is not the same are untouchability. Shame that these western imports want untouchability to be prevalent. https://t.co/XTCeMZeTfk
— ಅಮೋಘವರ್ಷ (@nripatunga) March 23, 2020
ہندوستان میں پیر کیر وز تک کرونا وائرس سے متاثرہونے والی کی تعداد 433تک پہنچ گئی تھی اوراب یہ بڑھ کر649ہوگئی ہے