وزیر اعظم مودی اسرائیل کی کارروائی پر خاموش

   

ایران کو تحمل کی تلقین پر کانگریس کی شدید تنقید ، مشرق وسطیٰ کے حالات کو پرامن کرنے پرزور
نئی دہلی، 23 جون (آئی اے این ایس) کانگریس پارٹی نے پیر کے روز مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران حکومت پر اسرائیل کے حوالے سے خاموشی اختیار کرنے کا الزام عائد کیا اور وزیراعظم نریندر مودی کی ایرانی صدر مسعود سے ٹیلیفونک گفتگو پر تنقید کی۔ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ پرمود تیواری نے وزیر اعظم مودی کو ایران سے کشیدگی کم کرنے کی اپیل کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا، جبکہ انہوں نے امریکہ یا اسرائیل کی حالیہ فوجی کارروائیوں پر کوئی ردعمل نہیں دیا، جنہوں نے خطے کی صورتحال کو مزید بگاڑا ہے۔ تیواری نے کہا امریکہ ہزاروں کلومیٹر دور سے آکر بمباری کر رہا ہے۔ پہلی بار بی ٹو بمبار استعمال ہو رہے ہیں، اور آپ کس کو پیغام دے رہے ہیں؟ ایران کو؟ آپ کو اسرائیل کے خلاف بولنے کی ہمت نہیں۔ آپ کو امریکہ کی کارروائیوں کو روکنے کی ہمت نہیں۔ جو ممالک اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہے ہیں، آپ ان کے خلاف بولنے کے بجائے ان ممالک کو تلقین کر رہے ہیں جو ان کی زیادتیوں کا نشانہ بنے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی یاد دلایا کہ ایران نے ہمیشہ کشمیر کے مسئلے پر ہندوستان کی سفارتی حمایت کی ہے۔ انہوں نے کہا، جب ہم پاکستان کے مسئلے، خاص طور پرکشمیر پر اقوام متحدہ اور اس کی کمیٹیوں میں تنہا کھڑے تھے، تب ایران ہی وہ ملک تھا جو ہمارے ساتھ کھڑا رہا۔ کانگریس کے ایک اور رہنما عمران مسعود نے بھی ایران سے یکجہتی کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا ہمیں ایران کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔ ایران ہمارا دیرینہ دوست ہے اور ہمارے ایران کے ساتھ مضبوط تجارتی و ثقافتی رشتے ہیں۔ ایران میں کئی برادریوں کی جڑیں ہندوستان سے جا ملتی ہیں، اس لیے ہمیں ایران کے ساتھ کھل کر کھڑا ہونا چاہیے۔ سیاسی ردعمل اس وقت سامنے آیا جب وزیراعظم مودی نے ایرانی صدر سے ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے کشیدگی میں کمی اور سفارتی راستہ اختیار کرنے پر زوردیا۔ وزیراعظم نے ایکس پر لکھا ایران کے صدر سے بات ہوئی۔ ہم نے موجودہ صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی۔ حالیہ کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ فوری تحمل، بات چیت اور سفارت کاری کی ضرورت پر زور دیا اور خطے میں امن، سلامتی اور استحکام کی جلد بحالی کی امید ظاہر کی۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب امریکہ نے ایران کی تین جوہری تنصیبات پر مربوط فضائی حملے کیے، جنہیں ایران نے وحشیانہ فوجی جارحیت اور بین الاقوامی قانون و اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی قرار دیا۔ یہ فوجی کشیدگی اس وقت بڑھی جب ایران نے اتوار کے روز اسرائیل کی جانب 30 سے زائد بیلسٹک میزائل داغے۔ اسرائیل نے ان حملوں کو ایران کے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کے خلاف ایک ’’احتیاطی اقدام‘‘ قرار دیا، جس کی ایران کئی بار تردید کر چکا ہے۔