وزیر اعظم مودی کا دورۂ اسرائیل

   

وزیر اعظم نریندر مودی اسرائیل کے دو روزہ دورہ پر روانہ ہوگئے ہیں۔ ان کے اس دورہ کو انتہائی اہمیت دی جا رہی ہے ۔ مودی کا یہ دوسرا دورہ اسرائیل ہے ۔ وہ اس سے قبل 2017 میں بھی اسرائیل کا دورہ کرچکے ہیں۔ ہندوستان جہاں اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو اہمیت دے رہا ہے وہیں اسرائیل کی جانب سے بھی اس دورہ کو بے انتہاء اہمیت دی جا رہی ہے ۔ باہمی سطح پر جو بھی معاہدات ہونگے اور باہمی تعلقات و تجارت کو جس طرح سے آگے بڑھانے پر توجہ مرکوز کی جائے گی وہ اپنی جگہ اہم ہے تاہم اس کے نتیجہ میں عالمی سطح پر صف بندیوں کے بھی امکانات ظاہر کئے جا رہے ہیں۔ ایک ایسے وقت میں جبکہ مشرق وسطی میں انتہائی کشیدگی پائی جا رہی ہے ۔ ایران کے خلاف امریکہ اور بالواسطہ طورپر اسرائیل بھی حملے کی تیاری کر رہے ہیں۔ ایران کی جانب سے جنگ کی صورت میں جوابی حملے کرنے کی دھمکی دی جا رہی ہے ۔ خود ہندوستان نے ایران میں موجود اپنے شہریوں کو دستیاب سفری سہولتوں سے استفادہ کرتے ہوئے وہاں سے فوری نکل جانے کا مشورہ دیا ہے ۔ ایسے میں وزیر اعظم نریندر مودی اسرائیل کا دورہ کر رہے ہیں جو اہمیت کا حامل کہا جاسکتا ہے ۔ خاص بات یہ ہے کہ ہندوستان میں خود خارجہ امور سے متعلق پارلیمانی اسٹانڈنگ کمیٹی نے بھی مودی کے دورہ اسرائیل کے وقت پر سوال اٹھایا تھا تاہم حکومت نے اس دورہ کے شیڈول کو برقرار رکھا ہے جس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ ہندوستان اور خود اسرائیل بھی اس دورہ کو کتنی اہمیت دے رہے ہیں ۔ اس دورہ کی کئی طرح سے اہمیت ظاہر کی جا رہی ہے ۔ سب سے زیادہ اہمیت کی بات تو یہ ہے کہ مشرق وسطی میں جنگ کے اندیشوں کے دوران یہ دورہ ہو رہا ہے ۔ اس کے ذریعہ اسرائیل یہ تاثر ساری دنیا کو دینے کی کوشش کرے گا کہ ایران کے خلاف کارروائیوں میں ہندوستان بھی اس کے ساتھ ہی ہے ۔ دنیا کے مختلف ممالک کی جانب سے ایران کے خلاف امریکہ کی قیادت میں فوجی اور جنگی کارروائیوں کی مخالفت کی جا رہی ہے اور تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے ایسے میں اسرائیل اس دورہ کو تائید کے طور پر پیش کرنے کی کوشش ضرور کرے گا ۔
دوسرا پہلو ہندوستان کے اعتبار سے بھی بہت زیادہ اہمیت کا حامل کہا جاسکتا ہے کیونکہ نریندرمودی کا یہ دورہ ایک تو مشکل اور بحران کے وقت یہ دورہ کیا جا رہا ہے اور دوسری خاص بات ہندوستان کے موقف سے متعلق یہ ہے کہ اس دورہ میں وزیر اعظم فلسطینی قیادت سے کسی طرح کا کوئی رابطہ نہیں کریں گے ۔ اس سے قبل جب انہوں نے اسرائیل کا دورہ کیا تو فلسطینی قیادت سے بھی ان کی ملاقاتیں ہوئی تھیں۔ تاہم اس بار اسرائیل کے دورہ کو فلسطین یا فلسطینی کاز سے یکسر الگ کردیا گیا ہے اور اس دورہ میں وزیر اعظم ہندوستان کی فلسطینی قیادت سے کوئی ملاقات شیڈول میں شامل نہیں ہے ۔ یہ ہندوستان کے معلنہ اور روایتی موقف کے یکسر مغائر ہے اور ہندوستان کی پالیسی سے ایک طرح سے انحراف کیا جا رہا ہے ۔ جس طرح ہندوستان میں بیرونی مہمانوں کی قائد اپوزیشن سے ملاقات کی روایت کو مودی حکومت نے ترک کردیا ہے اور بیرونی مہمانوں کو اس ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے اسی طرح اسرائیل نے بھی شائد فلسطینی قیادت سے ملاقاتوں کی روایت کو ختم کردیا ہے اور وہ اب اپنے ہی تسلط کو یقینی بنانے کیلئے بہت تیزی سے اقدامات کر رہا ہے ۔ فلسطینی قیادت سے کسی رابطے کے بغیر مودی کا دورہ اسرائیل مکمل کرلینا بھی ہندوستان کے روایتی موقف سے انحراف اور فلسطینی کاز سے دوری کا اشارہ ہی دیتا ہے اور یہی اسرائیل چاہتا بھی تھا ۔
اب جبکہ نریندر مودی اسرائیل کے دورہ پر پہونچ چکے ہیں اور وہ اسرائیلی پارلیمنٹ سے خطاب بھی کرنے والے ہیں تو ضرورت اس بات کیا ہے کہ وہ فلسطین کے تعلق سے پارلیمنٹ میں لب کشائی کریں اور اسرائیلی جارحیت اور مظالم کو روکنے پر زور دیں۔ نریندر مودی کو حوصلہ دکھاتے ہوئے ہزاروں فلسطینیوں کے قتل عام کا تدکرہ کرتے ہوئے غزہ کی تعمیر نو کیلئے بھی اسرائیل کو مشورہ دینے کی ضرورت ہے ۔ انہیں اس بات کو فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ اسرائیل سے دوستی کی اگر اہمیت ہے تو ہوبھی سکتی ہے تاہم فلسطینی کاز کی حمایت ہندوستان کا انتہائی اصولی موقف رہا ہے اور اس سے انحراف نہیں کیا جانا چاہئے ۔ اسرائیلی قیادت کے ساتھ فلسطین اور فلسطینیوں سے انصاف کیلئے بھی زور دیا جانا چاہئے ۔