اب کسی کو کسی سے کیا مطلب
ہر کوئی بھید بھائو میں آیا
وزیر اعظم کسی بھی ایک ریاست یا جماعت کا نہیں ہوتا بلکہ سارے ملک کا وزیر اعظم ہوتا ہے اور اسے کسی ایک ریاست یا سیاسی جماعت کے ساتھ کسی طرح کا بھید بھاؤ نہیں کرنا چاہئے اور نہ ہی اس کی کوئی گنجائش ہے ۔ سارے ملک اور ملک کی تمام ریاستوں کے ساتھ یکساں سلوک کیا جانا چاہئے اور یہی ہندوستان کے وفاقی طرز حکمرانی کا حصہ بھی ہے ۔ تاہم ایسا لگتا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی اس ذمہ داری کو تسلیم نہیں کرتے اور نہ ہی وہ اس پر عمل کرنا چاہتے ہیں۔ وزیر اعظم کل ریاست مغربی بنگال کے دورہ پر تھے ۔ وہ وقفہ وقفہ سے مغربی بنگا ل کے دورے کر رہے ہیں کیونکہ ریاست میں جاریہ کے اواخر تک اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔ سیاسی اختلافات اپنی جگہ ہیں اور اپنی پارٹی کی تشہیر اپنی جگہ ہے لیکن بحیثیت وزیر اعظم انہیں کسی ریاست کے ساتھ بھید بھاؤ والا رویہ اختیار نہیں کرنا چاہئے ۔ گذشتہ دن بنگال کے دورہ کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے نریندر مودی نے کہا کہ جب تک بنگال میں ترنمول کانگریس اقتدار پر ہے ریاست میں سرمایہ کاری نہیں ہوسکتی ۔ یہ ایک طرح سے کھلا بھید بھاؤ تھا جس کا خود ملک کے وزیر اعظم اظہار کر رہے تھے ۔ جہاں تک سرمایہ کاری کا سوال ہے تو ملک کے وزیر اعظم کی حیثینریندرمودی کو تمام ریاستوں کیلئے مساوی مواقع فراہم کرنے چاہئیں اور اس بات کو یقینی بنانا چاہئے کہ ملک کی کوئی بھی ریاست ترقی کے معاملے میں دوسری ریاستوں سے پیچھے نہ رہ جائے اور نہ کسی ایک ریاست کو زیادہ مواقع مل جائیں۔ تاہم بی جے پی کے اقتدار میں دیکھا جا رہا ہے صرف بی جے پی زیر اقتدار ریاستوںا ور ان میں بھی کچھ مخصوص ریاستوں کیلئے ہی متواتر سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں ۔ سیلاب اور دیگر آفات سماوی سے ہونے والی تباہی کے معاملے میں بھی بی جے پی اقتدار والی ریاستوں کو ہی زیادہ امدا د فراہم کی گئی ہے اور اس کی مثالیں موجود ہیں۔ دوسری ریاستوں کو امداد توفراہم کی گئی لیکن فراخدلانہ امداد نہیں دی گئی بلکہ صرف ضابطہ کی تکمیل پر توجہ دی گئی اور درکار امداد فراہم کرنے سے گریز کیا گیا ۔ یہ ملک کے وفاقی طرز حکمرانی کے مغائر ہے ۔
اب مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں اور بی جے پی ریاست میں اپنی چوتھی کوشش میں اقتدار حاصل کرنے کی حکمت عملی پر کام کر رہی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ لگاتار مغربی بنگال کے دورے کر رہے ہیں۔ ریاست میں ترنمول کانگریس کی حکومت کو تنقیدوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ یہ سیاسی کام ہے اس میں کوئی قباحت بھی نہیں ہے لیکن یہ اصولوں کے مغائر ہے کہ کسی ایک جماعت کی حکومت رہنے پر ریاست کو بیرونی سرمایہ کاری سے محروم کیا جائے ۔ بیرونی کمپنیوں اور اداروں کیلئے سارے ملک میں یکساں اور مساوی مواقع فراہم کرنے پر مرکزی حکومت کو توجہ دینے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ تمام ریاستوں میں ترقی کو یقینی بنایا جاسکے ۔ اس میں کسی طرح کی سیاست نہیں کی جانی چاہئے ۔ سیاست صرف انتخابات تک یا نظریات تک محدود ہونی چاہئے اور اس کو کسی ریاست کی ترقی میں رکاوٹ بننے کا موقع نہیں دیا جانا چاہئے ۔ تاہم بی جے پی مرکز میں اپنے اقتدار کا بیجا استعمال کرتے ہوئے غیر بی جے پی اقتدار والی ریاستوں کیلئے مساوی مواقع فراہم کرنے سے گریز کر رہی ہے اور خود ملک کے وزیر اعظم اس کا برملا اظہار کر رہے ہیں۔ اگر کسی ریاست میں کچھ خامی یا نقائص ہیںتو انہیں دور کرنے کیلئے ریاستی حکومت کے ساتھ مرکز کو تعاون کرنا چاہئے ہوتا ہے تاہم ایسا کرنے کی بجائے سیاسی جماعت کو نشانہ بناتے ہوئے سرمایہ کاری نہ ہونے کا دعوی کرنا انتہائی نامناسب طرز عمل ہے ۔
وزیر اعظم نے اس طرح کا اظہار خیال کرتے ہوئے ایک طرح سے ریاست کے عوام کو سزا دینے کی بات کہی ہے ۔ اگر کسی ریاست کے رائے دہندے یا ووٹرس بی جے پی کو ووٹ نہیں دیتے ہیں تو پھر انہیں ترقیاتی مواقع سے محروم کرنے کی بات کی جا رہی ہے جو ملک کے وزیر اعظم کو ذیب نہیںدیتی ۔ وزیر اعظم کو اس طرح کی بیان بازیوں سے گریز کرنے کی ضرورت ہے اور انہیں بحیثیت وزیر اعظم ہند ملک کی تمام ریاستوں کیلئے یکساں اور مساوی مواقع فراہم کرنے کیلئے آگے آنا چاہئے ۔ سیاسی وابستگی کی بنیاد پر کسی طرح کا امتیاز نہیںبرتا جانا چاہئے اور نہ ہی رائے دہندوں کو سزا دی جانی چاہئے ۔