وزیر اعظم کی سکیوریٹی کا مسئلہ

   

بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ
کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی
وزیر اعظم نریندر مودی کو پنجاب میں اپنی ریلی سے خطاب کئے بغیر واپس لوٹنا پڑا ۔ الزام یہ عائد کیا جا رہا ہے کہ وزیر اعظم کی سکیوریٹی کے انتظامات ناقص کئے گئے تھے جس کی وجہ سے وزیر اعظم کوا یک فلائی اوور پر 20 منٹ تک انتظار کرنا پڑا اور وہ وہیں سے واپس دہلی کیلئے روانہ ہوگئے ۔ اس مسئلہ پر پنجاب اور دہلی میںسیاست عروج پر پہونچ گئی ہے ۔ مسئلہ وزیر اعظم اور ان کی سکیوریٹی کا ہے اور اس میں کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جانا چاہئے اور نہ ہی اس پر کوئی سیاست یا ڈرامہ بازی ہونی چاہئے ۔ یہ ملک کے وقار کا بھی مسئلہ ہے ۔ اس کو پیش نظر رکھتے ہوئے ذمہ دارانہ بیانات دئے جانے چاہئیں۔ بے بنیاد الزامات عائد کرتے ہوئے ملک کے وقار کو مجروح ہونے سے بچانے کی ضرورت ہے ۔ سیاسی اختلافات ضرور ہوسکتے ہیں اور جمہوریت میں ایسے اختلافات ہونے بھی چاہئیں لیکن ملک کے وزیر اعظم کی سکیوریٹی میں نہ کوئی کوتاہی ہونی چاہئے اور نہ ہی کوئی بے بنیاد الزامات یا ڈرامہ بازی ہونی چاہئے ۔ جب وزیر اعظم اپنے دورہ پنجاب پر پہونچے تھے تو انہیں بذریعہ ہیلی کاپٹر ریلی کے مقام تک پہونچنا تھا تاہم موسم خراب ہونے اور بارش کی وجہ سے ہیلی کاپٹر سے سفر کا فیصلہ تبدیل کیا گیا اور بذریعہ سڑک وزیر اعظم جلسہ گاہ کیلئے روانہ ہوگئے ۔ اس کے علاوہ یادگار شہیدان پر حاضری کا بھی فیصلہ عین وقت پر کیا گیا ۔ وزیر اعظم کے دورہ کا جو سابقہ پروگرام جاری کیا گیا تھا اس میںیادگار شہیدان پر حاضری شامل نہیں تھی ۔ جب وزیر اعظم بھٹنڈہ سے فیروزپور جانے ایک فلائی اوور پر پہونچے تو انہیںوہاں کسانوں کے ایک گروپ کے احتجاج کی اطلاع ملی اور ان کا قافلہ وہیںرک گیا ۔ 20 منٹ تک انتظار کے بعد وزیر اعظم کے قافلہ نے یو ٹرن لیا اور نریندر مودی وہیںسے ائرپورٹ کیلئے اور پھر دہلی کیلئے روانہ ہوگئے ۔ وزیر اعظم نے ائرپورٹ سے واپسی سے قبل یہ بیان دیا کہ چیف منسٹر پنجاب کا شکریہ ادا کیا جانا چاہئے کہ وہ زندہ بچ کر دہلی واپس جا رہے ہیں۔ وزیر اعظم کا یہ بیان بھی مناسب نہیںکہا جاسکتا کیونکہ وہ بالکل محفوظ تھے اور کوئی احتجاجی ان کے قافلہ کے قریب تک بھی نہیںپہونچا تھا ۔
وزیر اعظم نے یہ بیان کس پس منطر میں دیا ہے اس کی کوئی وضاحت نہیں کی گئی ہے لیکن چیف منسٹر پنجاب چرنجیت سنگھ چنی نے اس پر وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نے ایک غیر ذمہ دارانہ بیان دیا ہے ۔ چرنجیت سنگھ چنی کا کہنا تھا کہ کوئی بھی احتجاجی وزیر اعظم کے قافلہ سے ایک کیلومیٹر سے کم فاصلے پر نہیں تھا ۔ وہاں کوئی نعرے نہیں لگائے گئے اور نہ ہی کوئی اور واقعہ پیش آیا ۔ ایسے میں جان کا خطرہ لاحق ہونے کا الزام عائد کرنا در اصل پنجاب اور پنجاب کے عوام کو بدنام اور رسواء کرنے کی کوشش ہے ۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جدوجہد آزادی میں پنجاب کے عوام نے ہی سب سے زیادہ تعداد میں حصہ لیا تھا ایسے میں ان کو بدنام کرنے کی کوششیں افسوسناک ہے ۔ سوشیل میڈیا پر یہ بھی دعوے کئے جا رہے ہیں کہ در اصل وزیر اعظم جس ریلی سے خطاب کرنے والے تھے اس میں 70 ہزار افراد کی شرکت کے انتظامات کئے گئے تھے لیکن ریلی میں صرف 700 افراد شریک ہوئے ایسے میں وزیر اعظم نے اپنی ریلی منسوخ کردی اور کسانوں کے احتجاج کو بہانہ بناتے ہوئے سارا مسئلہ پیدا کیا ہے ۔ ان سارے دعووں میں حقیقت چاہے جو کچھ بھی رہی ہو لیکن اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہ ملک کے وزیر اعظم اور ان کی سکیوریٹی کا مسئلہ ہے اور اس میں کسی طرح کی سیاست نہیں کرنی چاہئے ۔ نہ پنجاب حکومت کو اس پر کوئی سیاست کرنے کی ضرورت ہے اور نہ ہی بی جے پی کے قائدین کو اس پر کسی طرح کی ڈرامہ بازی کرنی چاہئے ۔
جو کچھ بھی وجہ رہی ہو اور جو کچھ بھی مسائل رہے ہوں ان کا باریک بینی سے اور انتہائی غیر جانبداری کے ساتھ کسی سیاسی تحفظ کے بغیر جائزہ لینے کی ضرورت ہے ۔ پنجاب حکومت ہو یا مرکزی حکومت دونوں کو ایک دوسرے سے اشتراک کرتے ہوئے اس بات کا پتہ چلانا چاہئے کہ واقعی سکیوریٹی میں کوئی نقص یا کوتاہی ہوئی ہے یا نہیں۔ وزیر اعظم کے قافلہ کو گمراہ کیا گیا ہے یا حقائق جیسے دکھائے جا رہے ہیں ویسے ہی ہیں یا نہیں ۔ بی جے پی ‘ کانگریس یا کسی کو بھی اس مسئلہ پر سیاسی کھیل کھیلنے کی بجائے ملک اور وزارت عظمی جیسے جلیل القدر عہدہ کے وقار کو پیش نظر رکھتے ہوئے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔