جدہ 21 جنوری (عارف قریشی) وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈی سریدھر بابو نے کہا ہے کہ میرا جدہ سعودی عرب کا دورہ کرنے کا مقصد یہ ہے کہ جدہ سعودی عرب کے این آر ائیز کو تلنگانہ اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کی طرف توجہ دلاؤں کیوں کہ ریاست تلنگانہ کے چیف منسٹر ریونت ریڈی نے یہ طے کرلیا ہے کہ ہمارے این آر ائیز تلنگانہ اسٹیٹ میں انڈسٹری یا فیاکٹری یا جدید ٹیکنالوجی یا آئی ٹی یا کسی بھی دوسرے قسم کے بزنس میں سرمایہ کاری کرتے ہیں تو ان کی ہر طرح سے مدد کی جائے گی۔ وزیر ڈی سریدھر بابو نے کہاکہ ریاست تلنگانہ کو ہندوستان میں ترقی یافتہ ریاست بنانے میں آپ سب این آر ائیز کا بھرپور تعاون درکار ہے۔ این آر ائیز اعلیٰ تعلیم یافتہ اور تجربہ کار کے علاوہ محنتی ہوتے ہیں، تب ہی تو دنیا کے دوسرے ممالک میں ہمارے ہندوستانی اپنی خدمات بہترین انداز میں اور ایمانداری سے انجام دے رہے ہیں۔ عارف قریشی کے سوال کے جواب میں وزیر موصوف نے کہاکہ سوئیزر لینڈ کے ڈاؤس کے عالمی معاشی فورم اجلاسوں میں کئی بڑے بڑے بزنسمین سے ملاقات ہوئی جن میں ٹاٹا گروپ، اڈانی گروپ آف کمپنیز، لندن کی ایک بڑی کمپنی جو طبی آلات بنانے میں اپنا خاص مقام رکھتی ہے، ان کے علاوہ بے شمار تاجروں سے ملاقات ہوئی جنھوں نے ریاست تلنگانہ میں سرمایہ کاری کے لئے اپنی رضامندی ظاہر کی۔ وزیر موصوف نے مزید کہاکہ ریاست تلنگانہ کے چیف منسٹر ریونت ریڈی کا ڈاؤس کا عالمی معاشی فورم کا دورہ انتہائی کامیاب رہا۔ اس دورے سے ریاست تلنگانہ میں کم از کم 40,000 کروڑ روپئے کی سرمایہ کاری کے لئے تاجروں سے معاہدے کئے گئے اور کئی تاجروں نے تلنگانہ میں سرمایہ کاری کے لئے اپنی رضامندی ظاہر کی۔ عارف قریشی کے دوسرے سوال کے جواب میں وزیر موصوف نے کہاکہ ہماری کانگریس کی حکومت نے عوام سے جو وعدے کئے ہیں وہ ہم 100 دن کے اندر ہی پورے کردیں گے۔ آخر میں وزیر موصوف نے کہاکہ این آر آئیز سے خواہش کرتا ہوں کہ آپ خود تلنگانہ میں سرمایہ کاری کریں اور اپنے دوست احباب کو بھی تلنگانہ میں سرمایہ کاری کے لئے راغب کریں۔ وزیر موصوف نے کہاکہ میں جدہ میں کئی این آر آئیز سے ملاقات کرچکا ہوں اور مزید این آر آئیز سے ملاقات کروں گا، ان کو تلنگانہ اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کے لئے راغب کروں گا۔