گلدستہ اور شال بروقت پیش نہ کرنے پر برہم، سرینواس یادو کی سالگرہ کے موقع پر واقعہ،سوشیل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا میں ویڈیو وائرل
حیدرآباد۔/6 اکٹوبر، ( سیاست نیوز) وزیر داخلہ محمد محمود علی نے آج برہمی کے عالم میں اپنے سیکوریٹی آفیسر کو طمانچہ رسید کردیا۔ سوشیل میڈیا میں یہ ویڈیو وائرل ہوتے ہی الیکٹرانک میڈیا میں اس واقعہ کو تیزی کے ساتھ پیش کرکے وزیر داخلہ کی اس غلطی کو عوام کے روبرو پیش کرنے کی کوشش کی گئی۔ عام طور پر وزراء کے ساتھ پولیس کے ملازمین سیکوریٹی عملے کے طور پر تعینات رہتے ہیں۔ محمد محمود علی چونکہ وزیر داخلہ ہیں لہذا ان کے ساتھ دیگر وزراء کے مقابلہ زیادہ سیکوریٹی اسٹاف ہوتا ہے۔ سیکوریٹی اسٹاف کی ذمہ داری متعلقہ وزیر کا تحفظ کرنا ہے نہ کہ ان کے سامان کو اٹھانا۔ حکومت کی جانب سے سرکاری اسکولوں میں طلبہ کیلئے ناشتہ کی سربراہی اسکیم کا افتتاح کرنے محمد محمود علی آج صبح امیر پیٹ میں واقع سرکاری اسکول پہنچے وہاں وزیر انیمل ہسبینڈری ٹی سرینواس یادو موجود تھے۔ سرینواس یادو کی آج سالگرہ تھی اور اسی مناسبت سے تقریب سے قبل وزیر داخلہ انہیں مبارکباد دینے آگے بڑھے۔ سرینواس یادو سے گلے ملکر مبارکباد پیش کی اور پھر گلدستہ اور شال کیلئے اپنے پرسنل سیکوریٹی آفیسر بابو نائیک سے کہا۔ سیکوریٹی آفیسر کے پاس شال اور گلدستہ نہیں تھا جس پر محمود علی برہم ہوگئے اور طمانچہ رسید کردیا۔ اس مرحلہ پر وزیر انیمل ہسبینڈری نے محمود علی کے غصہ کو تھامنے کی کوشش کی اور انہیں سمجھاکر اپنی طرف موڑ لیا۔ اسی دوران وزیر داخلہ کے شخصی مددگار نے شال اور گلدستہ حوالے کیا۔ وزیر داخلہ نے بروقت شال اور گلدستہ پیش نہ کرنے پر بابو نائیک پر برہمی کا اظہار کیا اور بعد میں سرینواس یادو کی شال پوشی اور گلدستہ پیش کرتے ہوئے مبارکباد پیش کی۔ اس واقعہ کو دیکھ کر خود سرینواس یادو اور وہاں موجود عہدیدار حیرت میں پڑ گئے۔ طمانچہ پڑنے کے بعد پرسنل سیکوریٹی آفیسر خود ششدر رہ گئے اور وہ یہ سمجھنے سے قاصر تھے کہ آخر انہیں طمانچہ کیوں رسید کیا گیا۔ عہدیداروں اور عوام کے درمیان طمانچہ رسید کرنے پر سیکوریٹی آفیسر میں شرمندگی کا احساس پیدا ہوگیا اور انہوں نے اپنے ساتھی ملازمین پولیس سے اپنا دکھ درد شیئر کیا۔ وہاں موجود عہدیداروں نے وزیر داخلہ کے رویہ پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ سیکوریٹی آفیسر کا کام وزیر کا تحفظ کرنا ہے نہ کہ وہ سامان ڈھونے کیلئے ہے۔ پولیس مینول کے مطابق سیکوریٹی عہدیدار اور گن مین کی ذمہ داری متعلقہ وزیر کا تحفظ کرنا ہوتا ہے۔ شخصی سامان جیسے گلدستہ اور شال وغیرہ اٹھانے کیلئے آڈلی کا ایک ملازم ساتھ موجود ہوتا ہے لیکن یہاں وزیر داخلہ نے پرسنل سیکوریٹی آفیسر پر طمانچہ رسید کرتے ہوئے پولیس مینول کی خلاف ورزی کی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ سیکوریٹی آفیسر کا تعلق درج فہرست اقوام سے ہے اور ایس سی، ایس ٹی طبقات سے کسی بھی بدتمیزی کے خلاف ایس سی، ایس ٹی ایکٹ کے تحت کارروائی کی گنجائش ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ پولیس ملازم کے ساتھ وزیر داخلہ کے رویہ پر پولیس عہدیداروں اور ملازمین کی اسوسی ایشن نے ناراضگی کا اظہار کرکے چیف منسٹر کے سی آر سے شکایت کی ہے۔ اس واقعہ کے بعد میڈیا نے وزیر داخلہ کا ردعمل جاننے کی کوشش کی لیکن انہوں نے کسی بھی تبصرہ سے انکار کیا اور اس واقعہ کو غیر اہم اور معمولی ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جبکہ وائرل ویڈیو میں برہمی سے طمانچہ رسید کرنے کی منظرکشی واضح طور پر دیکھی جاسکتی ہے۔