وزیر دفاع نے روک دیا،ورنہ بشارالاسد کو قتل کروا دیتا : ٹرمپ

,

   

واشنگٹن: صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ وہ 2017 ء میں شام کے صدر بشار الاسد کو مروانا چاہتے تھے لیکن اْس وقت کے وزیر دفاع جیمز میٹس نے ایسا کرنے سے انہیں روک دیا۔ امریکی نشریاتی ادارے ’’فاکس نیوز‘‘ کے ایک پروگرام میں صدر امریکہ نے انکشاف کیا کہ میں صدر شام بشار الاسد کو راستے سے ہٹا دینا چاہتا تھا جس کیلیے منصوبہ تیار تھا لیکن کم ہمت وزیر دفاع جیمز میٹس آڑے آگئے اور ہم اس پر عمل درآمد نہیں کراسکے۔یہ تقریباً وہی بات ہے جس کا واشنگٹن پوسٹ کے صحافی باب ووڈورڈ نے اپنی کتاب ’’فیئر: ٹرمپ ان دی وائٹ ہاؤس‘‘ میں 2018 ء کو انکشاف کیا تھا اور تب صدر ٹرمپ نے اس بات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس ( بشار الاسد کو قتل کرنے ) پرکبھی غور بھی نہیں کیا گیا تھا۔ٹرمپ نے صدر بشارالاسد کو قتل کرنے کا انکشاف سابق وزیر دفاع جیمز میٹس کو نیچا دیکھانے کے لیے کیا، صدر ٹرمپ آئے دن اپنے بیانات میں جیمز میٹس کو تنقید کا نشانہ بناتے رہتے ہیں۔ یہ وہی جیمز میٹس ہیں جب انہیں وزیر دفاع مقرر کیا گیا تھا تو ڈونالڈ ٹرمپ نے زمین و آسمان کی قلابیں ملاتے ہوئے انہیں ’’ عظیم آدمی‘‘ کے طور پر سراہا تھا۔اپریل 2017ء میں شام کے صدر پربشارالاسد پر کیمیائی حملوں کے الزامات سامنے آنے پر صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکی فوجیوں کو چاہئے کہ وہ بشار الاسد پر حملہ کرکے قتل کردیں۔