وظیفہ پر سبکدوشی کی عمر میں اضافہ کے فیصلہ سے طلبہ میں بے چینی

   

Ferty9 Clinic


عثمانیہ یونیورسٹی میں احتجاج، بیروزگار نوجوانوں کو مایوسی کا سامنا
حیدرآباد: سرکاری ملازمین کی وظیفہ پر سبکدوشی کی عمر میں اضافہ سے متعلق حکومت کے فیصلہ نے طلبہ و بیروزگار نوجوانوں میں ناراضگی پیدا کردی ہے۔ حکومت نے سرکاری ملازمین اور اساتذہ کی تائید حاصل کرنے تنخواہوں میں اضافہ اور وظیفہ پر سبکدوشی کی عمر میں توسیع کا فیصلہ کیا۔ گزشتہ 7 برسوں سے تلنگانہ جدوجہد میں حصہ لینے والے لاکھوں طلبہ سرکاری محکمہ جات میں تقررات کا منتظر ہیں۔ کے سی آر نے تشکیل تلنگانہ کے فوری بعد تمام محکمہ جات کے مخلوعہ جائیدادوں کے تقررات کا وعدہ کیا تھا۔ گزشتہ 6 برسوں میں مجموعی طور پر 36000 جائیدادوں پر تقررات کئے گئے جبکہ محکمہ جات میں تقریباً ایک لاکھ جائیدادیں مخلوعہ ہیں۔ حکومت کے اعلان کے فوری بعد عثمانیہ ، کاکتیہ اور دیگر یونیورسٹیز کے طلبہ نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے وظیفہ پر سبکدوشی کی عمر میں توسیع سے متعلق فیصلہ کو واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ بیروزگار نوجوانوں کی جانب سے جنوری میں احتجاج کی تیاری کی جارہی ہے ۔ مختلف طلبہ تنظیمیں مشترکہ طور پر احتجاج کا منصوبہ رکھتی ہیں ۔ بیروزگار نوجوانوں کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے صدرنشین مانوتا رائے نے کے سی آر حکومت کے فیصلہ کو نوجوانوںکیلئے مایوس کن قرار دیا ۔انہوں نے کہا کہ وظیفہ کی عمر میں اضافہ کے بجائے چیف منسٹر کو مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات میں دلچسپی لینی چاہئے ۔ حکومت کے فیصلہ سے ہزاروں نوجوان سرکاری نوکریوں سے محروم ہوجائیں گے ۔ گزشتہ 7 برسوں میں ہزاروں نوجوان عمر کی حد کو پار کرچکے ہیں جس کے نتیجہ میں وہ سرکاری محکمہ جات میں تقررات کے اہل نہیں رہے۔ حکومت کو نئے تقررات کے ساتھ درکار عمر کی حد میں اضافہ کرکے تلنگانہ جدوجہد میں اہم رول ادا کرنے والے طلبہ و نوجوانوں سے انصاف کرنا چاہئے ۔ عثمانیہ یونیورسٹی میں آرٹس کالج کے قریب طلبہ نے احتجاج منظم کرکے حکومت سے وظیفہ پر سبکدوشی کی عمر سے متعلق فیصلہ کو واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ آئندہ تین برسوں میں 26,000 سے زائد سرکاری ملازمین سبکدوش ہورہے ہیں جس کے نتیجہ میں بیروزگار نوجوانوں میں امید جاگی ہے کہ انہیں موقع مل سکتا ہے ۔