وقف اراضیات کے تحفظ کیلئے نئے ریونیو قانون میں گنجائش

   

وقف چیاپٹر کی تیاری کیلئے محمد علی رفعت کو ذمہ داری، انڈومنٹ اراضیات پر بھی رپورٹ طلب
حیدرآباد : تلنگانہ میں نئے ریونیو قانون کے تحت وقف اور انڈومنٹ کی اراضیات کو شامل کرنے کیلئے حکومت نے ماہرین کی ایک کمیٹی تشکیل دی ہے تاکہ سرکاری اراضیات کے ساتھ وقف اور انڈومنٹ اراضیات کے تحفظ کو یقینی بنایا جاسکے۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نئے ریونیو قانون کی تیاری کے سلسلہ میں روزانہ اعلیٰ عہدیداروں اور ماہرین کے ساتھ مشاورت کر رہے ہیں ۔ چیف منسٹر ریاست میں شفاف ریونیو قانون کے حق میں ہے تاکہ عوام بالخصوص غریب خاندانوں کو کرپشن کی لعنت سے بچائیں۔ سینئر آئی اے ایس عہدیدار محمد علی رفعت اور سابق کمشنر انڈومنٹ شیوشنکر ریٹائرڈ آئی اے ایس کو ماہرین کے طور پر شامل کیا گیا ہے ۔ مشاورت کے دوران محمد علی رفعت نے تجویز پیش کی کہ ریونیو لینڈ کی طرح وقف اور انڈومنٹ اراضیات کا تحفظ ہونا چاہئے اور اگر ریونیو ایکٹ میں ان دونوں کو شامل کیا جاتا ہے تو ضلع کلکٹرس کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ اراضیات کا تحفظ کریں۔ چیف سکریٹری سومیش کمار اور چیف منسٹر کے پرنسپل سکریٹری نرسنگ راؤ نے اس تجویز سے اتفاق کیا۔ محمد علی رفعت کو وقف اراضیات کے سلسلہ میں خصوصی چیاپٹر تیار کرنے کی ذمہ داری دی گئی تاکہ اسے قانون کا حصہ بنایا جاسکے ۔ وقف اراضیات کو ریونیو ایکٹ کے تحت شامل کرنے کی صورت میں وقف بورڈ کو اپنی جائیدادوں کے تحفظ کے لئے سرکاری محکمہ جات سے اپیل کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی بلکہ خود ضلع کلکٹرس کی ذمہ داری ہوگی۔ وقف اور انڈومنٹ اراضیات کے بارے میں خصوصی چیاپٹرس کو قطعی منظوری کیلئے چیف منسٹر کے پاس پیش کیا جائے گا ۔ توقع ہے کہ اندرون دو یوم نئے ریونیو قانون کے مسودہ کو منظوری دے دی جائے گی۔ ریاست میں 170 سے زائد قدیم ریونیو قوانین کو یکجا کرتے ہوئے ایک نیا جامع قانون تیار کیا جارہا ہے۔ گزشتہ ایک ہفتہ سے چیف منسٹر کے سی آر اعلیٰ عہدیداروں اور ماہرین کے ساتھ نئے قانون پر کئی گھنٹوں تک مشاورت کر رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر وقف اور انڈومنٹ اراضیات کو نئے ایکٹ میں شامل کرلیا جائے تو ریاست میں نہ صرف اراضیات کا تحفظ ہوگا بلکہ غیر مجاز قابضین کے خلاف کارروائی میں سہولت ہوگی۔