وزارت اقلیتی امور اور لاء کمیشن کو نوٹس کی اجرائی، بی جے پی لیڈر کی درخواست پر جولائی میں سماعت
حیدرآباد۔20 ۔ اپریل (سیاست نیوز) دہلی ہائیکورٹ نے وقف ایکٹ 1995 ء کی بعض دفعات کے دستوری جواز کو چیلنج کرتے ہوئے دائر کردہ مفاد عامہ کی درخواست کو سماعت کیلئے قبول کرلیا ہے۔ بی جے پی لیڈر اشونی کمار اپادھیائے ایڈوکیٹ نے درخواست دائر کرتے ہوئے وقف ایکٹ 1995 ء کی بعض دفعات کو دستور کے مغائر قرار دیا۔ کارگزار چیف جسٹس وپن سانگھی اور جسٹس نوین چاولہ پر مشتمل ڈیویژن بنچ نے مرکزی وزارت اقلیتی امور ، وزارت قانون و انصاف اور لاء کمیشن آف انڈیا کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کیا ہے۔ درخواست گزار نے وقف بورڈ کو فریق نہیں بنایا حالانکہ اس نے وقف ایکٹ کو چیلنج کیا ہے ۔ کارگزار چیف جسٹس نے درخواست گزار کو ہدایت دی کہ وقف بورڈ کو مقدمہ میں فریق بناتے ہوئے نوٹس جاری کرے۔ مقدمہ کی آئندہ سماعت جولائی میں ہوگی۔ اشونی کمار اپادھیائے نے اپنی درخواست میں کہا کہ وقف ایکٹ اوقافی جائیدادوں کے انتظام اور انصرام کے سلسلہ میں تیار کیا گیا ہے جبکہ ہندو، بدھسٹ ، جین ، سکھ ، زرتشتی اور دیگر مذہبی گروپس کے لئے اس طرح کا کوئی قانون نہیں ہے ۔ درخواست گزار نے کہا کہ وقف قانون سیکولرازم کے خلاف ہے اور ملک کے اتحاد اور یکجہتی کے مغائر ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ وقف بورڈ میں مسلم ارکان اسمبلی و پارلیمنٹ ، آئی اے ایس عہدیدار ، ٹاؤن پلانر ، ایڈوکیٹ اور اسکالرس کو بطور رکن شامل کیا جاتا ہے، جنہیں سرکاری خزانہ سے رقم ادا کی جاتی ہے۔ حالانکہ مرکزی حکومت مساجد اور درگاہوں سے کوئی رقم وصول نہیں کرتی۔ درخواست گزار نے کہا کہ ریاستوں کی جانب سے 4 لاکھ مندروں سے تقریباً ایک لاکھ کروڑ روپئے حاصل کئے جاتے ہیں لیکن ہندوؤں کیلئے اس طرح کی کوئی رعایت اور قانون نہیں ہے ۔ درخواست گزار نے شکایت کی کہ وقف ایکٹ میں وقف بورڈس کو زائد اختیارات دیئے گئے ہیں۔ وقف جائیدادوں کو دیگر خیراتی مذہبی اداروں سے زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔ درخواست میں وقف ایکٹ کی دفعات 4 ، 5 ، 6 ، 7 ، 8 ، 9 اور14 کو چیلنج کرتے ہوئے کہا گیا کہ ان دفعات کے ذریعہ اوقافی جائیدادوں کو خصوصی موقف دیا گیا ہے جبکہ ٹرسٹ ، مٹھ ، اکھاڑہ ، سوسائٹیوں اور دیگر اداروں کو مساوی درجہ حاصل نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہندو، جین ، بدھسٹ ، سکھ اور دیگر طبقات کو ان کی جائیدادوں کے تحفظ کے لئے خصوصی اختیارات نہیں دیئے گئے ۔ وقف ایکٹ کے ذریعہ ہندووں ، جین ، بدھسٹ ، عیسائی اور دیگر طبقات کے ساتھ امتیازی سلوک کیا گیا ہے اور یہ دستور کی دفعہ 14 اور 15 کے خلاف ہے۔ر