آندھرا پردیش میں برسر اقتدار تلگودیشم پارٹی نے بالآخر وقف بل کی تائید کا اعلان کردیا ۔ چندرا بابو نائیڈو کی قیادت والی تلگودیشم پارٹی نے اس بل کی مکمل تائید و حمایت اور پارلیمنٹ میںبل کے حق میں ووٹ ڈالنے کا اعلان کرتے ہوئے اس بل کو مسلمانوں کے حق میں فائدہ مند اور بہتر قرار دیا ۔ کچھ وقت سے یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ تلگودیشم پارٹی کی جانب سے وقف بل کی تائید کرنے سے گریز کیا جائیگا یا کم از کم مرکزی حکومت پر دباؤ ڈالتے ہوئے بل کو موخر کرنے کی کوشش کی جائے گی تاکہ ریاست میںمسلمانوں کی تائید و حمایت سے محرومی کا اندیشہ نہ رہنے پائے تاہم ایسا لگتا ہے کہ بی جے پی سے اتحاد اور آندھرا پردیش میں پون کلیان کے ساتھ نے تلگودیشم کو بھی مسلمانوں سے دور کردیا ہے اور پارٹی مسلمانوں کی تشویش کو سمجھنے یا اسے دور کرنے کی پرواہ کرنے کو تیار نہیں ہے ۔ جس وقت سے مرکزی حکومت نے وقف ترمیمی بل کی تیاری اور اس کی پیشکشی کا اعلان کیا تھا ساری نظریں نتیش کمار کی جنتادل یونائیٹیڈ ‘ چندرا بابو نائیڈو کی تلگودیشم پارٹی اور چراغ پاسوان کی لوک جن شکتی پارٹی پر ٹکی ہوئی تھیں۔ اب جبکہ تلگودیشم نے اس معاملہ میں پہل کردی ہے اور بل کی مکمل تائید و حمایت کا اعلان کیا ہے تو پھر نتیش کمار کے پیچھے ہٹنے کا بھی کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا ۔ چندرا بابو نائیڈو سے زیادہ نتیش کمار کی مجبوری ہے کہ وہ بی جے پی کے ساتھ رہیں۔ نتیش کمار بھی اس بل کی تائید و حمایت کرسکتے ہیں اور یہی فیصلہ چراغ پاسوان کی جانب سے بھی کیا جاسکتا ہے ۔ اس طرح یہ اشارے واضح ہونے لگے ہیں کہ کوئی بھی علاقائی جماعت جو بی جے پی کے ساتھ ہے وہ مسلمانوں کا ساتھ دے کر بی جے پی کی مخالفت مول لینے کو تیار نہیں ہے اور اسے مسلمانوں کے جذبات اور ان کی تشویش کی کوئی فکر بھی لاحق نہیں ہے ۔ جو باتیں وہ اب تک کہتے رہے ہیں وہ محض مسلمانوں کو بیوقوف بنانے اور ممکنہ حد تک ان کے ووٹ حاصل کرنے کیلئے ہی تھی اور حقیقت میں وہ صرف اپنے اقتدار کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں اور بی جے پی کی مخالفت مول لینے کو بھی ہرگز تیار نہیں ہیں۔ وہ اپنی سیاسی مجبوری کا عذر پیش کر رہی ہیں۔
جس طرح نریندر مودی حکومت اور اس کے وزراء کی جانب سے وقف ترمیمی بل کو مسلمانوں کے حق میں بہتر اور مفید قرار دیا جا رہا ہے اسی طرح چندرا بابو نائیڈو کی تلگودیشم پارٹی نے بھی اس بل کو مسلمانوں کے حق میں بہتر اور مفید قرار دیا ہے ۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ مسلمانوں کے میں کیا بہتر ہے اس کا فیصلہ مسلمانوں کو ہی کرنے نہیں دیا جا رہا ہے ۔ اتنی بہتری مسلمانوں کی سوچی جا رہی ہے کہ مسلمانوں کو خود ان کے اپنے مستقبل کا کوئی فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں دیا جا رہا ہے اور سیاسی جماعتیں ہی اپنی سہولت سے یہ فیصلے کرنے لگی ہیں کہ مسلمانوں کے حق میں کیا بہتر ہے اور کیا نہیں ہے ۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ بی جے پی کبھی بھی مسلمانوں کی بہتری نہیں سوچ سکتی ۔ اس پارٹی نے گذشتہ دس برس میں کسی ایک مسلمانوں کو پارلیمنٹ کا رکن نہیں بنایا ۔ کسی ایک مسلمان کو لوک سبھا انتخابات میں ٹکٹ نہیں دیا گیا ۔ کئی ریاستوں میں مسلمانوں قائدین کو جو بی جے پی میں شامل ہیں انتخاب لڑنے کا موقع نہیں دیا گیا ۔ مسلمانوں کو ملک چھوڑنے کی دھمکیاں بی جے پی کے قائدین کی جانب سے ہی دی گئیں۔ مسلمانوں کے خلاف انتہائی نازیبا اور غیر شائستہ زبان پارلیمنٹ کے اندر استعمال کی گئی ۔ ایسا کرنے والے بھی بی جے پی کے ہی قائدین تھے ۔ بی جے پی کے ہی قائدین ہیں جو چاہتے ہیں کہ مسلمانوں کے رائے دہی کے حقوق چھین لئے جائیں اور سرکاری اسکیمات میں ان کی حصہ داری کو ختم کیا جائے اور یہی بی جے پی وقف ترمیمی بل منظور کروانا چاہتی ہے ۔
مسلمانوں کے خلاف ہر ہر مسئلہ پر کام کرنے کا ریکارڈ رکھنے والی بی جے پی وقف ترمیمی بل کو مسلمانوں کے حق میں بہتر فیصلہ قرار دینے کی کوشش کر رہی ہے اور افسوس کی بات یہ ہے کہ انتہائی تجربہ کار اور معاملہ فہم سمجھے جانے والے چندرا بابو نائیڈو بھی اب بی جے پی کی زبان میں بات کرتے ہوئے وقف ترمیمی بل کو مسلمانوں کے حق میں بہتر قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ملک کے اور خاص طور پر آندھرا پردیش کے مسلمانوں کو سیاسی قائدین کے حقیقی چہروں کو سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ یہ بات اٹل کہی جاسکتی ہے کہ وقف ترمیمی بل کی تائید کرنے پر چندرا بابو نائیڈو کو مسلمانوں کی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔