وقف بورڈ دھاندلیوں سے متعلق ذرائع ابلاغ کو کچھ نہ بتانے پر زور

   


بورڈ کے ملازمین کو انتباہ، سی ای او کی ہدایت پر چیف ویجلنس اینڈ انفورسمنٹ آفیسر کا انتباہ

حیدرآباد۔ 2۔اکٹوبر(سیاست نیوز) تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ کے ملازمین اور شکایت کنندگان اگر ذرائع ابلاغ اداروں یا ان کے نمائندوں سے رجوع ہوتے ہوئے عہدیداروں کی نااہلی اور ان کی عدم کارکردگی کی شکایت کرتے ہیں تو ان کی شکایت کی یکسوئی نہیں کی جائے گی اور اگر کوئی دیانتدار ملازم وقف بورڈ میں جاری بے قاعدگیوں بالخصوص لیگل سیل کے معاملات اور این او سی کی اجرائی سے جڑے معاملہ کی اطلاعات کسی صحافی کو دیتا ہے تو اس کا فوری اثر کے ساتھ اضلاع تبادلہ کردیا جائے گا۔ گدوال میں موقوفہ اراضی کو پٹہ اراضی قرار دیئے جانے کی اطلاع اور عدالتوں میں جاری مقدمات کے متعلق اطلاعات کے منظرعام پر آنے سے پیداشدہ حالات کے بعد شاہنواز قاسم چیف ایکزیکیٹیو آفیسر وقف بورڈکی ہدایت پر چیف ویجلنس اینڈ انفورسمنٹ آفیسر وقف بورڈ خواجہ معین الدین نے شکایت کنندگان کو ذرائع ابلاغ سے رجوع ہونے کی صورت میں سنگین نتائج کا انتباہ دیا ہے اس کے علاوہ سی ای او کی جانب سے جاری کئے گئے زبانی احکامات سے واقف کرواتے ہوئے وقف بورڈ کے ملازمین کو انتباہ دیا ہے کہ اگر وہ وقف بورڈ کے اندرونی معاملات کی اطلاعات صحافیوں کو فراہم کرتے ہیں تو ایسی صورت میں ان کا تبادلہ اضلاع میں کردیا جائے گا۔ چیف ایکزیکیٹیو آفیسر کے رویہ سے بورڈ کے ارکان و صدرنشین جناب محمد مسیح اللہ خان نالاں ہیں اور ارکان نے ان کی خدمات حکومت کو واپس کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے اور امکان ہے کہ آئندہ دو یوم میں تمام ارکان کے متفقہ فیصلہ سے پرنسپل سیکریٹری محکمہ اقلیتی بہبود کو واقف کروانے کے لئے مکتوب روانہ کردیا جائے گا۔محکمہ اقلیتی بہبود میں جاری’پولیس گری‘ سے اب تک ملازمین کو خوفزدہ کرنے کی کوشش کی جاتی تھی لیکن اب شکایت کنندگان اور اپنے مسائل کے حل کے لئے رجوع ہونے والوں کو بھی خوفزدہ کرنے کا انتباہ دیا جا رہاہے ۔ ریاستی وقف بورڈ کے عہدیداروں کے اس رویہ سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ وہ خود حقائق کے انکشاف سے خوفزدہ ہیں اور وہ نہیں چاہتے کہ وقف بورڈ میں شفاف طریقہ سے کام انجام دیا جائے اور موقوفہ اراضیات کے تحفظ کے اقدامات کو یقینی بنایا جائے حالانکہ ریاستی حکومت اور صدرنشین وقف بورڈ محمد مسیح اللہ خان ریاست میں صیانت اوقاف کے لئے اپنی سنجیدگی ظاہر کر رہے ہیں لیکن اس کے برعکس عہدیدارو ںکا رویہ یہ ثابت کر رہا ہے کہ وقف بورڈمیں بڑے پیمانے پر دھاندلیوں کی اعلیٰ عہدیدار خود نگرانی کر رہے ہیں۔م