گزشتہ 15 سال کے آڈٹ کی ازسرنو آڈٹ کی ضرورت، بورڈ میں کھلبلی
حیدرآباد۔19فروری(سیاست نیوز) وقف بورڈ کے گذشتہ 15 برسوں کے آڈٹ کی از سر نور آڈ ٹ کروائے جانے کی ضرورت ہے کیونکہ تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ میں آڈیٹر کے عہدہ پر خدمات انجام دینے والے عہدیدار کا تقررحکومت کے محکمہ ٹریژری کے مطابق غیر قانونی ہے کیونکہ کسی بھی آڈیٹر کو ایک سال یا زیادہ سے زیادہ دو سال کسی ایک محکمہ یا ادارہ کی آڈٹ کی اجاز ت دی جاسکتی ہے لیکن وقف بورڈ میں جو عہدیدار آڈیٹر کے عہدہ پر خدمات انجام دے رہا ہے وہ گذشتہ 15برس سے اسی ایک عہدہ و ادارہ میں خدمات انجام دے رہا ہے اسی لئے اس عہدیدارکی جانب سے اب تک کی گئی آڈٹ کی از سر نو آڈٹ کے اقدامات کے متعلق اقدامات کئے جانے چاہئے تاکہ 15برسوں کے دوران وقف کو پہنچائے گئے نقصانات کی جانچ ممکن ہوسکے۔ وقف بورڈ میں خدمات انجام دینے والے آڈیٹر کے تقرر کے متعلق محکمہ ٹریژری کی جانب سے جاری کئے جانے والے احکام یا وقف بورڈ کو موصول ہونے والے کسی احکام کی نقل موجود نہیں ہیں اور نہ ہی اس عہدیداروں کو حکومت کی جانب سے وقف بورڈ میں تقرر کے احکامات کے متعلق کوئی واقف ہے ۔ عہدیداروں نے بتایا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے وقف بورڈ کی آڈٹ کے لئے اگر اس عہدیدارکو روانہ بھی کیا گیا تھا تو ایسی صورت میں 15 سال سے ایک جگہ خدمات کی انجام دہی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ بورڈ میں آڈیٹر کے عہدہ پر خدمات انجام دینے والے عہدیداراور دیگر شعبہ جات کے عہدیدارو ںکے درمیان ساز باز کے نتیجہ میں جو صورتحال پیدا ہوئی ہے وہ انتہائی ناگفتہ بہ ہوچکی ہے۔ بتایاجاتاہے کہ محکمہ ٹریژری کے احکامات اور وقف بورڈ کو موصول ہونے والے مکتوب کی نقل حاصل کرنے کی کوشش کی جار ہی ہے لیکن گذشتہ دو ہفتہ سے کی جانے والی اس کوشش میں کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوئی جس کے نتیجہ میں اب تک یہ بات واضح نہیں ہوپائی ہے کہ آڈیٹر کو محکمہ ٹریژری نے نامزد بھی کیا تھا یا نہیں!15 برس سے ایک ہی عہدیدار کے ایک ہی مقام پر خدمات انجام دیئے جانے کے معاملہ کے انکشاف کے ساتھ ہی وقف بورڈ کے عہدیداروں اور عملہ میں کھلبلی پیدا ہوچکی ہے کیونکہ اب مختلف گوشوں سے 15 برسوں کے دوران وقف بورڈ کے فنڈس کے استعمال اور جاری کی گئی امداد کے علاوہ دیگر اخراجات کی از سرنو آڈٹ کے مطالبات شروع ہونے کا امکان ہے ۔