وقف بورڈ میں شخصی تشہیر کیلئے 3 لاکھ 36 ہزار کا خرچ ، بلز منظوری کے منتظر

   

غیر معروف ایجنسی پر مہربانی، سالانہ ورک آرڈر کی اجرائی، انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی
حیدرآباد ۔30۔اکتوبر (سیاست نیوز) اقلیتی اداروںکی جانب سے حکومت کی اسکیمات پر عمل آوری میں کوتاہی سے متعلق شکایات عام ہیں ، ایسے میں اگر اقلیتی اداروں پر فائز افراد اپنی شخصی تشہیر کیلئے لاکھوں روپئے خرچ کریں تو پھر غریب اقلیتوں کی بھلائی کی فکر کون کرے گا۔ سرکاری اداروں کی اسکیمات سے متعلق تشہیر کیلئے محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ موجود ہے جو سرکاری اداروں کی جانب سے اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا کو اشتہارات جاری کرتا ہے۔ تلنگانہ وقف بورڈ میں بے قاعدگیوں اور بدعنوانیوں کی شکایات کوئی نئی بات نہیں ۔ اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے بجائے انہیں وقف مافیا کے حوالے کرنے میں بالواسطہ طور پر مدد کرنے کے کئی معاملات حالیہ عرصہ میں منظر عام پر آچکے ہیں۔ حکومت کی جانب سے وقف بورڈ کو دی جانے والی گرانٹ ان ایڈ اور اوقافی جائیدادوں سے حاصل ہونے والی آمدنی مسلمانوں کی بھلائی پر خرچ کرنے کیلئے ہے نہ کہ ذمہ داروںکی شخصی تشہیر کیلئے ۔ تلنگانہ اسٹیٹ وقف بورڈ نے ایک غیر معروف ویب چیانل پر مہربانی کا معاملہ منظر عام پر آیا جس میں 336400 روپئے کی منظوری محض تشہیری کاموں کیلئے دی جارہی ہے۔ اب جبکہ الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابی ضابطہ اخلاق نافذ ہوچکا ہے، سرکاری اداروں کے صدورنشین اور دیگر نامزد ارکان کو سرکاری خرچ پر تشہیر کا اختیار حاصل نہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وقف بورڈ نے 5 اکتوبر کو چیف اگزیکیٹیو آفیسر کی دستخط کے ساتھ ورک آرڈر جاری کیا جس میں غیر معروف ادارہ کو ایک سال کا کنٹراکٹ منظور کیا گیا جس کیلئے 144000 روپئے مختص کئے گئے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ادارہ کی جانب سے 4 اکتوبر کو کوٹیشن داخل کیا گیا اور اسی دن صدرنشین وقف بورڈ نے نوٹ آرڈرس کے ذریعہ منظوری دی اور دوسرے ہی دن 5 اکتوبر کو ورک آرڈر جاری کردیا گیا۔ مذکورہ ایجنسی کو یوٹیوب اور واٹس ایپ گروپ میں 20 تا 30 سکنڈ کی اسکرولنگ ، ویڈیو اور فوٹوز کیلئے ماہانہ 12000 روپئے کے حساب سے ایک سال کے ایک لاکھ 44 ہزار روپئے کی منظوری دی گئی ۔ ورک آرڈر میں کہا گیا ہے کہ صدرنشین وقف بورڈ نے کوٹیشن کو منظوری دی ہے۔ قواعد کے مطابق وقف بورڈ کو کسی خانگی ایجنسی کیلئے اس طرح ورک آرڈر جاری کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ اس سلسلہ میں کوئی بھی فیصلہ وقف بورڈ کے اجلاس میں کیا جانا چاہئے لیکن یہاں شخصی تعلقات یا پھر کسی نامعلوم دباؤ کے تحت سالانہ بھاری رقم کا کنٹراکٹ منظور کردیا گیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس غیر معروف ایجنسی کے ساتھ ہمدردی کی کیا وجوہات ہیں۔ آیا وقف بورڈ نے سکریٹری اقلیتی بہبود سے اس بارے میں منظوری حاصل کی ہے ؟ اتنا ہی نہیں مذکورہ غیر معروف ایجنسی نے ایک لاکھ 40 ہزار کے سالانہ بل کے علاوہ 192400 روپئے کا دوسرا بل داخل کیا ہے جو حکومت کی جانب سے وقف بورڈ کو 125 ایکر اراضی کے الاٹمنٹ کی تقریب کے لائیو ٹیلی کاسٹ کی ہے۔ لائیو ٹیلی کاسٹ فیس بک اور انسٹگرام پر 24 اکتوبر کو کیا گیا تھا جس کیلئے 192400 روپئے کا بل داخل کیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق مذکورہ ایجنسی کو جملہ 336400 روپئے کی منظوری کی فائل تیار ہوچکی ہے۔ ایسے وقت جبکہ حکومت انتخابی سرگرمیوں میں مصروف ہے، وقف بورڈ کی جانب سے لاکھوں روپئے کا بے جا استعمال ڈپارٹمنٹ میں موضوع بحث بن چکا ہے۔ سکریٹری اقلیتی بہبود کو اس جانب فوری توجہ دینی چاہئے۔ بتایا جاتا ہے کہ مذکورہ غیر معروف ادارہ نے دیگر اقلیتی اداروں سے بھی مختلف کاموں کے عوض بھاری رقومات حاصل کئے ہیں اور اقلیتی اداروں کے مختلف کام نامعلوم وجوہات کے سبب اسی ادارہ کو الاٹ کئے جاتے ہیں۔ انتخابی ضابطہ اخلاق کے دوران کسی بھی نیوز چیانل یا ویب چیانل پر سیاسی قائدین کی تصاویر اشتہار کے طور پر پیش نہیں کی جاسکتی لیکن اقلیتی اداروں کے صدورنشین کی تصاویر اسکرولنگ کی شکل میں پیش کی جارہی ہیں۔