وقف بورڈ کی موثر کارکردگی کیلئے مستقل عہدیدار کا تقرر ضروری

   

Ferty9 Clinic


رنگاریڈی میں اوقافی جائیدادوں کا تحفظ، صدر نشین وقف بورڈ اور ارکان کی وزیر اقلیتی بہبود کے ایشور سے ملاقات

حیدرآباد۔ وزیر اقلیتی بہبود کے ایشور نے صدر نشین وقف بورڈ محمد سلیم اور بورڈ کے ارکان کو تیقن دیا کہ وقف بورڈ کے مستقل چیف ایکزیکیٹو آفیسر اس سلسلہ میں چیف منسٹر سے نمائندگی کریں گے۔ صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم اور وقف بورڈ کے ارکان مولانا اکبر نظام الدین، صوفیہ بیگم، مرزا انوار بیگ، زیڈ ایچ جاوید، ایم اے وحید اور نثار حسین حیدر آغا نے وزیر اقلیتی بہبود سے ملاقات کرتے ہوئے وقف بورڈ کی کارکردگی میں دشواریوں کا حوالہ دیا۔ وزیر اقلیتی بہبود کو بتایا گیا کہ 10 دن قبل حکومت نے ہائی کورٹ کے احکامات کے تحت چیف ایکزیکیٹو آفیسر کا تبادلہ کرتے ہوئے ڈائرکٹر اقلیتی بہبود شاہنواز قاسم ( آئی پی ایس ) کو عہدہ کی زائد ذمہ داری دی ہے۔ شاہنواز قاسم نے ایک مرتبہ بھی وقف بورڈ کا دورہ نہیں کیا جبکہ سینکڑوں افراد اپنے مسائل کیلئے وقف بورڈ سے رجوع ہوتے ہیں۔ چیف ایکزیکیٹو آفیسر کی عدم موجودگی کے نتیجہ میں مسائل کی یکسوئی نہیں ہوپارہی ہے۔ وزیر اقلیتی بہبود سے خواہش کی گئی کہ وقف بورڈ کیلئے مستقل چیف ایکزیکیٹو آفیسر کا تقرر کریں جن کے ساتھ کوئی اضافی ذمہ داری نہ ہو اور وہ مکمل وقت وقف بورڈ کے کاموں پر صرف کرسکیں۔ وزیر اقلیتی بہبود نے کہا کہ چیف منسٹر نے شاہنواز قاسم کے نام کو منظوری دی ہے لہذا وہ اس معاملہ میں کچھ بھی نہیں کرسکتے۔ انہوں نے تیقن دیا کہ وقف بورڈ کی دشواریوں سے چیف منسٹر کو واقف کرائیں گے۔ وقف بورڈ کے صدرنشین اور ارکان نے اوقافی جائیدادوں کی ترقی کے سلسلہ میں محکمہ اقلیتی بہبود کی رکاوٹوں کی شکایت کی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے تین سال قبل 11 اوقافی جائیدادوں کے ڈیولپمنٹ کیلئے احکامات جاری کئے۔ وقف بورڈ نے بیگم پیٹ کی اراضی کو اوپن ٹنڈر کے تحت لیز پر دینے کا فیصلہ کیا اور حکومت سے اس کی منظوری طلب کی تھی لیکن آج تک حکومت نے منظوری نہیں دی ہے۔ اس سلسلہ میں سکریٹری محکمہ اقلیتی بہبود کو توجہ دلائی جائے۔ وقف جائیدادوں کے ڈیولپمنٹ کے ذریعہ آمدنی میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ صدرنشین وقف بورڈ نے رنگاریڈی میں قیمتی اوقافی اراضیات پر ناجائز قبضوں کو روکنے کیلئے ضلع کلکٹر کو ہدایت دینے کی خواہش کی۔ وزیر اقلیتی بہبود نے ضلع کلکٹر رنگاریڈی سے ربط قائم کیا اور اوقافی جائیدادوں کے سلسلہ میں جلد جائزہ اجلاس طلب کرنے کی ہدایت دی۔