وقف بورڈ کے مستقل سی ای او کے لیے اقدامات

   

محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے 3 نومبر تک احکامات متوقع
حیدرآباد۔2۔نومبر۔(سیاست نیوز) تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ میں مستقل چیف اکزیکیٹیو آفیسر کے تقرر کے سلسلہ میں ریاستی حکومت کی جانب سے اقدامات کا آغاز کردیا گیا ہے اور کہا جار ہاہے کہ 3نومبر کی شام تک اس سلسلہ میں محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے احکامات جاری کردیئے جائیں گے۔ تلنگانہ ہائی کورٹ کے احکام کے بعد سیکریٹری محکمہ اقلیتی بہبود نے اس سلسلہ میں ریاستی وزیر اقلیتی بہبود سے ملاقات کرتے ہوئے وقف بورڈ میں منظور کی گئی قرارداد اور تلنگانہ ہائی کورٹ کے فیصلہ سے واقف کروایا اور جناب شاہنواز قاسم کی جگہ نئے مستقل سی ای او کے تقرر کے سلسلہ میں احکامات کی اجرائی کے متعلق تبادلہ خیال کیا۔واضح رہے کہ 20اکٹوبر کو تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ کے اجلاس میں جناب شاہنواز قاسم کی خدمات کو محکمہ اقلیتی بہبود کو واپس کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا ۔صدرنشین وقف بورڈ جناب محمد مسیح اللہ خان کی صدرات میں منعقد ہوئے اجلاس میں مولانا سید شاہ علی اکبر نظام الدین ‘ جناب محمد فاروق حسین ‘ جناب کوثر محی الدین ‘ جناب ذاکر حسین جاوید ‘ محترمہ یاسمین باشاہ نے شرکت کی تھی ۔ اس اجلاس میں خدمات واپس کئے جانے کے باوجود حکومت کی جانب سے کوئی اعلامیہ جاری نہیں کیا گیا جس پر گذشتہ دنوں عدالت میں داخل کی گئی ایک رٹ درخواست پر تلنگانہ ہائی کورٹ نے احکام جاری کرتے ہوئے محکمہ اقلیتی بہبود کو ہدایت دی تھی کہ 4 نومبر سے قبل مستقل چیف اکزیکیٹیو آفیسر کے تقرر کے اقدامات کئے جائیں۔ ذرائع کے مطابق محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے نئے عہدیدار کے تقرر کے ساتھ ساتھ جناب شاہنواز قاسم کے پاس موجود تمام ذمہ داریوں کو واپس حاصل کرتے ہوئے انہیں چیف اکزیکیٹیو آفیسر کے عہدہ کی مستقل ذمہ داری دینے پر بھی غور کیا جا رہاہے لیکن ایسا کرنا ریاستی حکومت کے لئے ممکن نہیں ہے کیونکہ وقف بورڈ نے ان کی خدمات کو واپس کیا ہے اور اگر حکومت انہیں دوبارہ مستقل سی ای او کے طور پر پیش کرتی ہے تو ایسے میں بورڈ اور عہدیداروں کے درمیان اختلافات پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ٖم