تحفظ وقف اراضیات کیلئے عہدیداروں کو متحرک کرنے کا عزم، چیرمین بورڈ کی تجویز
حیدرآباد۔15۔مئی۔ (سیاست نیوز) تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ میں ملازمین کی وقت پر آمد اور کارکردگی کو بہتر بنانے کے لئے متعدد اقدامات کئے جائیں گے اور تلنگانہ کے مختلف اضلاع میں موجوداوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے سلسلہ میں ضلعی عہدیدارو ںکو متحرک کرنے کے اقدامات کے علاوہ عدالتو ںمیں زیر دوراں مقدمات کے موقف کے متعلق آگہی حاصل کرتے ہوئے ان میں بہتر انداز میں پیروی کو یقینی بنایا جائے گا۔ صدرنشین تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ جناب محمدمسیح اللہ خان نے بتایا کہ تلنگانہ وقف بورڈ میں نصب سی سی ٹی وی کیمرو کو کارکرد بنانے کے علاوہ بائیو میٹرک حاضری نظام کو روشناس کروایا جائے گا علاوہ ازیں ملازمین کی سہولت کے لئے انٹرکام کی سہولت فراہم کرنے کے اقدامات کئے جائیں گے۔ انہو ںنے بتایا کہ ریاست بھر کی مختلف عدالتو ںمیں موقوفہ اراضیات پر قبضوں کے علاوہ دیگر مقدمات زیر دوراں ہیں لیکن ناگزیر وجوہات کی بناء پر اب تک ان مقدمات کی یکسوئی کے سلسلہ میں اقدامات کو تیز نہیں کیا جاسکا مگر اب موجودہ وقف بورڈ شہر حیدرآباد کے علاوہ شہر کے اطراف موجود موقوفہ اراضیات کے تحفظ اور ان کے مقدمات کی عاجلانہ یکسوئی کے سلسلہ میں ماہرین قانون سے مشاورت کرتے ہوئے اقدامات کو تیز کرے گا۔ محمد مسیح اللہ خان نے کہا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے معاملہ میں کئے جانے والے اقدامات کی مکمل تائید و حمایت حاصل ہے لیکن وقف بورڈ اور محکمہ مال کے عہدیدارو ںکے درمیان عدم تال میل کے سبب ضلعی سطح پر موجود وقف ٹاسک فورس بہتر انداز میں اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے سے قاصر ہے اسی لئے انہو ںنے فیصلہ کیا ہے کہ جلد ہی اس سلسلہ میں محکمہ اقلیتی بہبود ‘ وقف بورڈ اور محکمہ مال کے عہدیداروں کے مشترکہ اجلاس کے انعقاد کو یقینی بناتے ہوئے ضلعی سطح پر ایکٹ کے مطابق اوقافی جائیدادو ںکو محفوظ کرنے کے اقدامات کئے جائیں گے۔ صدرنشین وقف بورڈ نے حج ہاؤز میں موجود ریاستی وقف بورڈ کے دفتر میں خدمات انجام دینے والے ملازمین کی حاضری اور دفتر میں موجودگی کو یقینی بنانے کے علاوہ دفتری سرگرمیوں پر خصوصی نگاہ رکھنے کے لئے سی سی ٹی وی کیمروں کو کارکرد بنانے کے متعلق کہا کہ بورڈ کی کارکردگی میں شفافیت پیدا کرنے کے لئے لازمی ہے کہ وقف بورڈ کے عملہ کی کارکردگی کو مؤثر بنایا جائے اور عوامی شکایات کو طویل مدت تک زیر التواء رکھے جانے کے کلچر کو ختم کیا جائے۔ م