وقف ترمیمی بل سے وقف بورڈ اور اوقافی جائیدادوں کو بھاری نقصان ہوگا

   

مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے65 سوالات کا جماعت اسلامی ہند نے جواب روانہ کیا
حیدرآباد۔/19 جنوری، ( سیاست نیوز) جماعت اسلامی ہند نے وقف ترمیمی بل سے متعلق مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کی جانب سے کئے گئے سوالات کا تحریری طور پر جواب روانہ کیا ہے۔ نائب امیر جماعت اسلامی ہند جناب ملک معتصم خاں نے کہا کہ وقف ترمیمی بل 2024 کے بارے میں مشترکہ پارلیمانی کمیٹی سے ملاقات کے بعد کمیٹی کی جانب سے 65 سوالات پر مبنی سوالنامہ روانہ کیا گیا تھا۔ جماعت اسلامی نے تمام سوالات کا تفصیلی جواب روانہ کیا ہے۔ مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے ارکان وقف کے مذہبی اور سیکولر پہلوؤں کے بارے میں جاننا چاہتے تھے۔ ان کا سوال تھا کہ وقف کی جائیداد سماج کے تمام طبقات کو فائدہ مند ہے یا صرف مسلمانوں تک محدود ہے۔ وقف بورڈ کے رول اور اوقافی جائیدادوں پر غیر قانونی قبضہ جات سے متعلق سوالات کئے گئے۔ وقف بورڈ میں غیر مسلموں کو شامل کرنے اور بورڈ کی نگرانی اور کارکردگی میں شفافیت کے بارے میں سوالات کئے گئے۔ جماعت اسلامی نے اپنے جواب میں کہا کہ وقف ترمیمی بل اوقاف کے تقدس اور اس کے اختیارات کو کمزور کرتا ہے۔ نظام اوقاف کی مضبوطی مسلمانوں کی سماجی، معاشی اور مذہبی ترقی کیلئے ضروری ہے۔ نئے بل کا مسودہ وقف کے انتظامات کرنے والوں کے اختیارات کو کم کرے گا۔ مساجد، قبرستانوں اور درگاہوں کے تاریخی اوقافی موقف کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ وقف بل قانونی تنازعات میں اضافہ اور اوقافی جائیدادوں کو نقصان پہنچانے کا سبب بنے گا۔ ضلع کلکٹرس کو اوقاف کے موقف طئے کرنے کا اختیار دینا نقصاندہ ہے۔ وقف بورڈ میں غیر مسلموں کو شامل کرنے کے سوال پر جماعت اسلامی نے کہا کہ یہ تجویز مذہبی معاملات میں کھلی مداخلت ہے۔ مذکورہ بل مجرمانہ کردار کے حامل افراد اور غیرقانونی قابضین کی پشت پناہی کرسکتا ہے۔ بورڈ کو کمزور کرنے کیلئے مختلف اُمور میں مداخلت کی کوشش کی گئی ہے۔ جماعت اسلامی نے اعداد و شمار کے حوالے سے کہا کہ وقف جائیدادیں قانونی مسائل کے سبب نہیں بلکہ بدانتظامی کا شکار ہیں۔ جماعت اسلامی اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہے کہ سماج اور ملک کی ترقی کیلئے اوقاف کی ترقی اور اس کی جائیدادوں کا تحفظ ہونا چاہیئے۔ وقف ترمیمی بل میں متنازعہ ترامیم کو واپس لیا جائے۔ موجودہ وقف قوانین کو موثر انداز میں عمل کرنے پر مرکزی حکومت کو توجہ مرکوز کرنا چاہیئے۔1