وقف ترمیمی بل کے خلاف کانگریس ارکان پارلیمنٹ کا احتجاجی نوٹ

,

   

بل پر دوبارہ غور کا مطالبہ، 46 دفعات میں ترمیمات پیش، بل سے اوقافی جائیدادوں کی تباہی کی راہ ہموار، جے پی سی صدرنشین سے ملاقات
حیدرآباد ۔30۔جنوری (سیاست نیوز) وقف ترمیمی بل 2024 کے بارے میں مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے یکطرفہ فیصلوں کے خلاف کانگریس کے تین ارکان پارلیمنٹ نے احتجاجی نوٹ حوالے کیا جس میں وقف ترمیمی بل کا از سر نو دوبارہ جائزہ لینے کا مطالبہ کیا گیا۔ مشترکہ پارلیمانی کمیٹی میں شامل ڈاکٹر سید ناصر حسین، ڈاکٹر محمد جاوید اور عمران مسعود نے 29 صفحات پر مشتمل نوٹ صدرنشین کمیٹی جگدمبیکا پال کے حوالے کیا۔ کانگریس ارکان نے وقف ترمیمی بل کی 46 دفعات کے سلسلہ میں اپنی ترمیمات پیش کی ہیں جس میں اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کیلئے ترمیمی بل کے بجائے مستحکم میکانزم کی تشکیل پر زور دیا گیا ہے ۔ کانگریس ارکان پارلیمنٹ نے احتجاجی مکتوب میں کہا کہ انہوں نے پارلیمانی کمیٹی کے اجلاسوں میں باقاعدگی کے ساتھ شرکت کرتے ہوئے بل میں شامل مختلف دفعات کی کوتاہیوں کی نشاندہی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشترکہ پارلیمانی کمیٹی نے جس انداز میں اپوزیشن کی ترمیمات پر مباحث کی اجازت نہیں دی، وہ کمیٹی کے قواعد کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی پارلیمانی کمیٹی میں موضوع سے متعلق اہم دستاویزات ارکان کو پیش کئے جاتے ہیں لیکن وقف پارلیمانی کمیٹی نے ارکان کو کمیٹی کے روبرو پیش ہونے والے اسٹیک ہولڈرس کے موقف سے واقف نہیں کرایا۔ کمیٹی کی روزانہ کی روئیداد سے بھی ارکان کو لاعلم رکھا گیا۔ اسٹیک ہولڈرس کی جانب سے پیش کی گئی نمائندگیوں کا جائزہ لینے کا موقع نہیں دیا گیا۔ کمیٹی نے اسٹیک ہولڈرس سے جو سوالات کا جواب طلب کیا تھا، ان کی تفصیلات ارکان کو پیش نہیں کی گئی۔ ڈاکٹر ناصر حسین نے صدرنشین سے کہا کہ اجلاس میں ہر سیکشن پر جامع مباحث نہیں ہوپائے۔ ارکان نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ صدرنشین نے مباحث کے بغیر ہی اپوزیشن کی ترمیمات کو ووٹنگ کیلئے پیش کردیا اور ارکان کی اکثریت کی بنیاد پر اپوزیشن کی ترمیمات مسترد کردی گئیں۔ کانگریس ارکان پارلیمنٹ نے 46 ترمیمات کو رپورٹ کا حصہ بنانے کا مطالبہ کیا تاکہ دونوں ایوانوں کے ارکان ترمیمات سے واقف ہوسکیں۔ کانگریس ارکان نے کہا کہ سیاسی ایجنڈہ کے تحت وقف ترمیمی بل کو پیش کیا جارہا ہے جو ملک میں اوقافی جائیدادوں کے لئے نقصان دہ ہے ۔ انہوں نے وقف بورڈس میں منتخب ارکان کے بجائے حکومت کی جانب سے نامزدگی اور غیر مسلم ارکان کی شمولیت کی مخالفت کی اور کہا کہ یہ فیصلہ دستور کی دفعات 25 اور 26 کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ اوقافی جائیدادوں کے موقف کو طئے کرنے کا ضلع کلکٹرس کو اختیار دینا وقف بورڈس اور ٹریبونلس کے اختیارات میں کمی کے مترادف ہے۔ کانگریس ارکان نے کہا کہ عام طور پر کلکٹر حکومت کے موقف کی نمائندگی کرتے ہیں لہذا کلکٹر کو کامل اختیارات کی صورت میں اوقافی جائیدادوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ وقف ترمیمی بل کے ذریعہ شرعی امور میں مداخلت کی کوشش کی گئی ہے کیونکہ وقف راست طور پر ایک مذہبی معاملہ ہے۔ کانگریس ارکان پارلیمنٹ نے وقف ترمیمی بل کی مخالفت کرتے ہوئے اس پر دوبارہ از سر نو غور کرنے کا مطالبہ کیا۔ کانگریس ارکان نے جن دفعات کے تحت ترمیمات پیش کی ہیں ، ان میں وقف بائی یوزر، وقف جائیدادوں کے موقف کے تعین کے اختیارات ، تنازعات کی یکسوئی کا طریقہ کار ٹریبونل کے اختیارات ، وقف بورڈس اور سنٹرل وقف کونسل میں غیر مسلم ارکان کی شمولیت، چیف اگزیکیٹیو آفیسر کے تقرر کی شرائط وقف بورڈ کے اختیارات اور کارکردگی اوقافی جائیدادوں کے اکاؤنٹس کی پیشکشی ، غیر مجاز قبضوں کی برخواستگی ، متولی کی برخواستگی، اوقافی جائیدادوں کو راست نگرانی میں لینا اور دیگر دفعات شامل ہیں۔1