وقف ترمیمی بل کے خلاف 7 مارچ کو آندھرا و بہار اسمبلی کے روبرو مظاہرہ

   

بل کے خلاف اپوزیشن کی تائید حاصل کرنے مسلم پرسنل لا بورڈ کی کوشش
حیدرآباد 2 مارچ (سیاست نیوز) آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے وقف ترمیمی بل 2024 کے خلاف 10 مارچ کو نئی دہلی کے جنتر منتر پر احتجاجی مظاہرے کا اعلان کیا ہے۔ مظاہرہ میں مسلم پرسنل لاء بورڈ کے قائدین کے علاوہ مسلم جماعتوں اور تنظیموں کے نمائندے حصہ لیتے ہوئے مرکزی حکومت سے وقف ترمیمی بل سے دستبرداری کی مانگ کریں گے۔ بورڈ کے ترجمان ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے کہاکہ مشترکہ پارلیمانی کمیٹی سے مسلم پرسنل لاء بورڈ اور مسلم تنظیموں نے نمائندگی کرکے بِل کی مخالفت کی تھی۔ وقف ترمیمی بِل دراصل وقف املاک کو تباہ کرنے کی گہری سازش ہے اور مرکزکو اِسے واپس لینا چاہئے۔ مسلم تنظیموں اور مسلمانوں کے احتجاج کے باوجود حکومت بل کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کی تیاری کررہی ہے۔ پرسنل لاء بورڈ کی مجلس عاملہ نے حکومت اور سیاسی پارٹیوں کو مسلمانوں کے جذبات سے واقف کرانے 10 مارچ کو نئی دہلی میں دھرنا منظم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ملک کی تمام اہم دینی و ملی جماعتوں اور سماجی تنظیموں کے قائدین شرکت کرینگے۔ بورڈ نے اپوزیشن پارٹیوں اور سیول سوسائٹی سے اپیل کی کہ دھرنے میں شریک ہوکر بل کے خلاف اپنے موقف کا اظہار کریں۔ قاسم رسول الیاس کے مطابق دلت، آدی واسی اور او بی سی کی سماجی و سیاسی قیادت کے علاوہ سکھ اور عیسائی طبقہ کے مذہبی رہنما دھرنے میں شرکت کرینگے۔ بورڈ نے 7 مارچ کو وجئے واڑہ اور پٹنہ میں ریاستی اسمبلیوں کے روبرو احتجاجی مظاہرہ کا فیصلہ کیا ہے۔ واضح رہے کہ جے پی سی رپورٹ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں پیش کردی گئی اور بجٹ سیشن کے دوسرے مرحلہ میں یہ بِل پیش کردیا جائے گا۔ 1