یونائٹیڈ مسلم فورم کا مطالبہ
حیدرآباد۔/2فروری، ( سیاست نیوز) یونائٹیڈ مسلم فورم نے ملک کی جمہوریت اور دستور کی حکمرانی کیلئے تمام انصاف پسند طاقتوں سے اپیل کی ہے کہ وقف ترمیمی بل 2024 اور یکساں سیول کوڈ کے نفاذ کی کوششوں کی مخالفت کریں۔ یونائٹیڈ مسلم فورم کے صدر مفتی صادق محی الدین فہیم، مولانا خالد سیف اللہ رحمانی، مولانا سید شاہ علی اکبر نظام الدین حسینی صابری اور دیگر ذمہ داروں نے مشترکہ بیان جاری کیا۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمانی کمیٹی نے ابتداء ہی سے وقف ترمیمی بل کے بارے میں معاندانہ رویہ اختیار کیا اور اپوزیشن کی ترمیمات کو نامنظور کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ وقف اداروں کو ختم کرنے کی سازش کے تحت مشترکہ پارلیمانی کمیٹی نے حکومت کے اشارہ پر اپنی سفارشات پیش کردی ہے۔ وقف بورڈ کی تشکیل اور سنٹرل وقف کونسل میں غیر مسلم ارکان اور سرکاری عہدیداروں کو مسلط کرنے کیلئے سرکاری ترمیمات کو قبول کیا گیا۔ فورم نے وقف ترمیمی بل پر اپوزیشن ارکان، مسلم پرسنل لا بورڈ اور دیگر تنظیموں و جماعتوں کے موقف کی تائید کی۔ فورم کے ذمہ داروں نے این ڈی اے میں شامل سیاسی جماعتوں تلگودیشم اور جنتا دل یونائٹیڈ کی قیادت سے مطالبہ کیا کہ وقف پارلیمانی کمیٹی کی رپورٹ پر اپنا موقف واضح کریں۔ پارلیمنٹ میں بل کو پیش کرنے کی صورت میں دونوں پارٹیوں کا کیا موقف رہے گا اس کی وضاحت کی جائے۔ اتراکھنڈ میں یونیفارم سیول کوڈ کے نفاذ کو دستور کے مغائر قراردیتے ہوئے فورم نے دستور کے تحفظ کا دعویٰ کرنے والی سیاسی، غیر سیاسی جماعتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ مخالفت میں آواز بلند کریں۔ فورم نے کہا کہ یکساں سیول کوڈ سے قبائیلی طبقہ کو مستثنیٰ رکھا گیا ہے اور ہندو وراثت قانون پر یکساں سیول کوڈ لاگو نہیں ہوگا۔ مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے مقصد سے یہ غیردستوری قانون نافذ کیا جارہا ہے۔ فورم نے چیف جسٹس سپریم کورٹ سے اپیل کی کہ وہ مداخلت کرتے ہوئے درخواستوں کی عاجلانہ سماعت کے ذریعہ جمہوریت اور دستور کا تحفظ کریں۔1