وقف ترمیمی قانون کیخلاف چیف منسٹر کا عنقریب مرکز کو مکتوب

   

اقلیتی مسائل پر ریونت ریڈی کی محمد علی شبیر سے بات چیت، اسکیمات پر جائزہ اجلاس کا فیصلہ

حیدرآباد۔/21 اگسٹ، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے اقلیتی بہبود کی اسکیمات پر موثر عمل آوری اور بجٹ کی اجرائی کے سلسلہ میں عنقریب جائزہ اجلاس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت کے مشیر برائے اقلیت و کمزور طبقات محمد علی شبیر نے آج سکریٹریٹ میں چیف منسٹر ریونت ریڈی سے ملاقات کی اور اقلیتی اُمور پر تبادلہ خیال کیا۔ چیف منسٹر نے اقلیتی بہبود کی اسکیمات کیلئے بجٹ کی اجرائی کے سلسلہ میں محکمہ فینانس کو ہدایت دینے کا تیقن دیا اور کہا کہ جاریہ ماہ کے اواخر میں نظام آباد میں اقامتی انٹیگریٹیڈ اسکولوں کا افتتاح انجام دیں گے اور محکمہ اقلیتی بہبود کی کارکردگی کا جائزہ لیں گے۔ چیف منسٹر نے حال ہی میں مرکزی حکومت کے وقف ترمیمی قانون پر سکریٹریٹ میں منعقدہ مشاورتی اجلاس پر خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ حکومت بھی وقف ترمیمی قانون کے خلاف مرکز کو مکتوب روانہ کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ٹاملناڈو کے چیف منسٹر اسٹالن کی طرح وہ بھی مسلم تنظیموں اور جماعتوں کی رائے کا احترام کرتے ہوئے مرکز کو مکتوب روانہ کریں گے جس میں وقف ترمیمی قانون سے دستبرداری کی مانگ کی جائے گی۔ محمد علی شبیر نے چیف منسٹر کو مشاورتی اجلاس میں 50 سے زائد سماجی، مذہبی اور سیاسی شخصیتوں کی شرکت سے واقف کرایا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ وہ اقلیتی بہبود کی کارکردگی بہتر بنانے کیلئے عنقریب اہم فیصلے کریں گے۔ ریونت ریڈی نے محمد علی شبیر سے خواہش کی کہ وہ اقلیتی اسکیمات پر عمل آوری کے بارے میں جامع منصوبہ پیش کریں تاکہ عہدیداروں کے ذریعہ اس پر عمل کیا جاسکے۔ چیف منسٹر نے شہر حیدرآباد بالخصوص پرانے شہر کی ترقی سے متعلق حکومت کے منصوبوں سے واقف کرایا اور کہا کہ فلاحی اور ترقیاتی اسکیمات کے بارے میں عوام میں بہتر طور پر رسائی اور تشہیر کی ضرورت ہے۔1