ریاستی حکومت نے ہمیشہ ومل نیگی کے خاندان کی خواہشات کے مطابق کام کیا ہے اور کرتی رہے گی
شملہ۔ 24 مئی (یو این آئی) ہماچل پردیش حکومت نے ہماچل پردیش پاور کارپوریشن لمیٹڈ (ایچ پی پی سی ایل) کے چیف انجینئر ومل نیگی کی پراسرار موت کے مقدمہ کو مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کے حوالے کرنے کے ہائی کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے ۔ یہ فیصلہ ریاستی حکومت کی جانب سے عدالت کے سامنے اس طرح کی تحقیقات کی مخالفت کرنے کے چند روز بعد آیا ہے ۔ وزیر اعلی کے پرنسپل میڈیا ایڈوائزر نریش چوہان نے ایک بیان میں واضح کیا کہ ریاستی حکومت نے ہمیشہ ومل نیگی کے خاندان کی خواہشات کے مطابق کام کیا ہے اور کرتی رہے گی۔ نریش چوہان نے بتایا کہ اس سال مارچ میں ومل نیگی کی نعش ملنے کے فوراً بعد، وزیر اعلیٰ سکھویندر سنگھ سکھو نے ایچ پی سی ایل کے افسران کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا تھا، جو مبینہ طور پر واردات میں ملوث تھے ۔ نیگی کی اہلیہ اور رشتہ داروں کے مطالبات کے بعد ان اہلکاروں کو معطل بھی کر دیا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ایڈیشنل چیف سکریٹری رینک کے سینئر آئی اے ایس افسر کو انکوائری کرنے کے لئے مقرر کیا گیا تھا، اور اس معاملہ کی مکمل جانچ کے لئے خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی گئی تھی۔ چوہان نے کہا کہ اب جب کہ خاندان نے ایس آئی ٹی کی تحقیقات پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے ، تو حکومت ان کے ساتھ کھڑی ہے اور ہائی کورٹ کے حکم کا مکمل احترام کرتی ہے ۔ سی بی آئی تمام زاویوں سے تحقیقات کرے گی، اور حکومت کو اس کارروائی پر کوئی اعتراض نہیں ہے ۔ انصاف کے تئیں وزیر اعلی کی عہد بندی کا اعادہ کرتے ہوئے چوہان نے زور دے کر کہا کہ حکومت کسی بھی ایسے اقدام کے لیے تیار ہے جس سے سوگوار خاندان کو انصاف مل سکے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی پہلو کو تلاش نہ کیا گیا ہو تو سی بی آئی اسے بے نقاب کرے گی۔ ہم عدالت کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ مارچ 2025 میں ایچ پی پی سی ایل کے چیف انجینئر ومل نیگی کی مشتبہ حالات میں موت ہوگئی تھی۔ ان کی نعش10 مارچ کو لاپتہ ہونے کے آٹھ دن بعد 18 مارچ کو بلاس پور کی گوبند ساگر جھیل سے ملی تھی۔ نیگی کے اہل خانہ اور متعلقین نے الزام لگایا کہ اسے اپنی موت سے پہلے کام کی جگہ پر بہت زیادہ دباؤ اور ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔