دبئی : ؍ ویلنگٹن: نیوزی لینڈ کی ’وائٹ فَرنس‘ کرکٹ ٹیم نے اتوار کو یہاں T20 ورلڈ کپ کے فائنل میں جنوبی افریقہ کو 32 رنز سے شکست دی، اور فاتح ٹیم کو 2.3 ملین ڈالر کی انعامی رقم ملے گی۔ ٹیم کے ہر رکن کے حصے میں تقریباً 155,000 ڈالر آئیں گے۔. یہ ویمنس ٹیم ممبرز کیلئے بہت بڑی رقم ہے جو گزشتہ کئی سال سے مرد کھلاڑیوں کی طرح مالی مساوات کے حصول کیلئے برسوں سے جدوجہد کر رہے ہیں۔. ورلڈ کپ میں نیوزی لینڈ کی پہلی جیت کرکٹ کا مختصر مسلمہ فارمٹ غیر متوقع ہے۔White Ferns ٹورنامنٹ کے وارم اپ میچ میں جنوبی افریقہ کو شکست دینے سے پہلے لگاتار دس T20I میچ ہار چکے تھے۔ نیوزی لینڈ کی ٹیم اپنی مہم کے دوران لیگ مرحلے میں بھارت، سری لنکا اور پاکستان کو شکست دی جبکہ آسٹریلیا سے ہار گئی۔ کیوی ٹیم نے سیمی فائنل میں ویسٹ انڈیز کو شکست دی۔ جنوبی افریقہ نے سیمی فائنل میں چھ بار کی چمپئن اور ٹائٹل کی دعویدار آسٹریلیا کو شکست دی لیکن فائنل میں یہ ٹیم ایک بار پھر دباؤ میں آکر بکھر گئی۔ نیوزی لینڈ نے فائنل میں 158/5 اسکور کے بعد جنوبی افریقہ کو 126/9 پر محدود رکھا ۔ نیوزی لینڈ کی جانب سے امیلیا کیر نے 38 گیندوں پر 43 رنز بنائے اور پھر 24 رنز دے کر تین وکٹیں لیتے ہوئے آل راؤنڈ کارکردگی پیش کی، جس پر ان کو بجا طور پر ’پلیئر آف دی میچ‘ ایوارڈ دیا گیا۔ نیوزی لینڈ کی کپتان سوزی بیٹس نے 32 رنز بنائے۔ فائنل میں 25 رنز دے کر تین وکٹیں لینے والی نیوزی لینڈ کی روزمیری مائر نے کہا کہ پچھلے 18 ماہ میں ہم بہت مشکلات سے گزرے ہیں۔ نیوزی لینڈ کیلئے سوفی ڈیوائن کا بطور کپتان یہ آخری میچ ثابت ہوا۔وہ بیٹس کے ساتھ 2009 سے اب تک منعقد ہونے والے تمام نو T20 ورلڈ کپ میں کھیل چکی ہیں۔ نیوزی لینڈ 2009 اور 2010 میں پہلے دو ٹورنامنٹس کے فائنل میں پہنچا تھا۔ دونوں موقعوں پر انہیں آسٹریلیا نے شکست دی ۔