’ ون نیشن ون الیکشن‘کے پسِ پردہ ’ایک شخص ایک پارٹی راج ‘ کے قیام کی سازش: ریونت ریڈی

   

جنوبی ریاستوں کو نظرانداز کرنے کا الزام، یونیورسٹیز کے اُمور میں مداخلت، انڈیا الائنس میں ہٹ دھرمی رویہ سے دہلی میں بی جے پی کامیاب، حلقہ جات کی حد بندی کی مخالفت
حیدرآباد۔/9 فروری، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے ون نیشن ون الیکشن نظریہ کی سختی سے مخالفت کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی اور بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ون نیشن ون الیکشن کا مقصد ملک میں ’ ایک شخص اور ایک پارٹی راج ‘ قائم کرنا ہے۔ چیف منسٹر آج کیرالا کے تھروننتا پورم میں ماترو بھومی انٹر نیشنل فیسٹول آف لیٹرس سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے جنوبی ریاستوں میں اتحاد پر زور دیا تاکہ بنیادی حقوق کا تحفظ کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ ون نیشن ون الیکشن نظریہ کے پیچھے وزیر اعظم مودی کا خفیہ ایجنڈہ ہے۔ لوک سبھا حلقہ جات کی نئی حد بندی کے ذریعہ شمالی ہند کی ریاستوں کے تسلط کی مساعی کی جارہی ہے تاکہ جنوبی ریاستوں کے بغیر مرکز میں اقتدار حاصل کیا جاسکے۔ ملیالی زبان کے روز نامہ ’ ماترو بھومی‘ کی منعقدہ تقریب میں چیف منسٹر نے شرکت کی اور دانشوروں کے سوالات کا جواب دیا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ دستور نے تمام ریاستوں کو یکساں حقوق دیئے اور ان ضمانتوں کا احترام کیا جانا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ دستوری حقوق کے تحفظ کیلئے جنوبی ہند کی ریاستوں کو متحد ہونا پڑے گا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ لوک سبھا حلقہ جات کی نئی حد بندی کا مقصد جنوبی ریاستوں کے رول کو کم کرنا ہے تاکہ مخصوص شمالی ریاستوں کے ذریعہ مرکز پر کنٹرول کیا جاسکے۔ چیف منسٹر نے فلاحی اسکیمات پر موثر عمل کیلئے فنڈز کی عدم اجرائی کے ذریعہ جنوبی ریاستوں کو مرکز کی جانب سے سزاء دینے کی شکایت کی۔ انہوں نے کہا کہ وہ جنوبی ہند کی پارٹیوں سے زیادہ عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ جمہوریت کو خطرہ سے نمٹنے متحد ہوجائیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی پارٹیوں اور قائدین کی مجبوریاں ہوتی ہیں لیکن عوام ریاستوں کے حقوق کیلئے متحد ہوسکتے ہیں۔ چیف منسٹر نے کہا کہ تلنگانہ، کیرالا ، ٹاملناڈو، کرناٹک اور پوڈوچیری کے عوام کیلئے یہ بہتر وقت ہے کہ وہ اتحاد کا ثبوت دیں۔ ضرورت پر میں مساعی کیلئے تیار ہوں۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ مودی اور بی جے پی ملک میں ہر شعبہ کا کنٹرول حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ دہلی نتائج سے متعلق سوال پر چیف منسٹر نے کہا کہ انڈیا الائنس میں شامل جماعتوں کے ہٹ دھرم رویہ کے نتیجہ میں بی جے پی کو فائدہ ہوا۔ ہریانہ اور دہلی کی مثال پیش کرکے ریونت ریڈی نے کہا کہ ہریانہ میں اروند کجریوال نے کانگریس کی کامیابی کے امکانات کو نقصان پہنچایا تھا اور اسی طرح کانگریس نے دہلی کے الیکشن میں بعض ایسے قدم اٹھائے کہ بی جے پی کو فائدہ ہوا اور عام آدمی پارٹی شکست سے دوچار ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے خلاف ہم خیال سیکولر جماعتوں کو متحد ہونا پڑیگا اور متحدہ منصوبہ بندی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی ریاستوں نے فیملی پلاننگ پر موثر عمل کیا ہے اور لوک سبھا حلقہ جات کی نئی حد بندی میں جنوبی ریاستوں کو نقصان ہوگا۔ نشستوں میں اضافہ کے بجائے موجودہ نشستیں کم ہوسکتی ہیں۔ چیف منسٹر نے کہا کہ مرکزی حکومت کو آبادی کے تناسب سے لوک سبھا حلقہ جات کا تعین کرنا چاہیئے۔ کیرالا کو مزید 10 اور تلنگانہ کو 9 اضافی لوک سبھا نشستیں ملنی چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی بہار، مدھیہ پردیش، راجستھان اور اتر پردیش کے ذریعہ مرکز میں تشکیل حکومت کا منصوبہ رکھتی ہے اور نئی حد بندی کے ذریعہ یہ باآسانی ممکن ہے۔ تشکیل حکومت میں جنوبی ریاستوں کی ضرورت نہیں پڑیگی اور یہ رجحان جمہوریت کیلئے نقصاندہ ہے۔ ون نیشن ون الیکشن کی مخالفت کرکے ریونت ریڈی نے کہا کہ مجالس مقامی کے انتخابات میں حکومت کئی سیاسی وعدے کرتی ہے اور نیشنل الیکشن اور اسٹیٹ الیکشن میں واضح فرق ہے۔ اس تجویز کے ذریعہ مرکزی حکومت ریاستوں کے اختیارات چھیننا چاہتی ہے۔ تعلیمی پالیسی میں مداخلت کرکے ریاستی یونیورسٹیز کے وائس چانسلرس کا تقرر مرکز کرنا چاہتا ہے جبکہ یہ یونیورسٹیز ریاستی بجٹ سے چلتی ہیں اور ریاست کا نصاب پڑھایا جاتا ہے۔ چیف منسٹر نے یو جی سی کی نئی گائیڈ لائنس کو تہذیب پر حملہ قرار دیا اور کہا کہ نریندر مودی ہر شعبہ پر کنٹرول کرنا چاہتے ہیں اور یہ ذہنیت بدبختانہ ہے۔ سیاسی پارٹیاں اور قائدین اس سازش کو مکمل سمجھنے سے قاصر ہیں لہذا دانشوروں اور عوام کو مخالفت میں تحریک شروع کرنی چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ کیرالا حکومت کو ویلفیر اسکیمات کے علاوہ ترقی اور سرمایہ کاری پر توجہ دینی چاہیئے۔ ہر ریاست کے مسائل یکساں ہیں اور مرکز ریاستوں پر دباؤ بنارہا ہے۔ سابق وزیر اعظم نرسمہا راؤ کو کانگریس ہائی کمان سے نظرانداز کرنے کے الزام کو مسترد کرکے ریونت ریڈی نے کہا کہ کانگریس نے نرسمہا راؤکو ریاستی وزیر، چیف منسٹر، مرکزی وزیر، وزیر اعظم اور کانگریس صدارت پر فائز کیا۔ نریندر مودی واٹس ایپ یونیورسٹی یہ مہم چلا رہی ہے تاکہ کانگریس کے قائدین کو دور کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ سردار پٹیل اور نرسمہا راؤ کی وراثت پر بی جے پی کی دعویداری ہے حالانکہ سردار پٹیل نے آر ایس ایس پر پابندی عائد کی تھی۔ چیف منسٹر نے کہا کہ رائے دہی کے سلسلہ میں عوام کا رجحان تبدیل ہوچکا ہے۔ سابق میں قومی و علاقائی پارٹیاں عوام کی ترجیح ہوتی تھی لیکن اب پوزیشن اور اپوزیشن میں کسی ایک کا انتخاب کیا جارہا ہے۔ عوام اپنا ووٹ ضائع کرنا نہیں چاہتے۔ نئی دہلی میں مخالف کجریوال ووٹ بی جے پی کو منتقل ہوئے۔ تلنگانہ میں بی آر ایس اور کانگریس کے درمیان مقابلہ رہا اور بی جے پی کو محض 13 فیصد ووٹ حاصل ہوئے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ کسی بھی پارٹی کی کامیابی میں ورکرس کا اہم رول ہوتا ہے، میں نے کانگریس کے ایک ورکر کی حیثیت سے سونیا گاندھی کے نام پر ووٹ حاصل کئے اور لوکل کیڈر کو متحرک کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی میں قیادت کے نام پر ووٹ حاصل کرنا چاہیئے۔1