ون نیشن ون الیکشن کے اقدامات ملک کے دستور اور جمہوری روح کے مغائر

   

مرکزی حکومت کی کوششوں کی مذمت، سابقہ ایم پی سید عزیز پاشاہ کا شدید ردعمل
حیدرآباد۔15۔ڈسمبر(سیاست نیوز) حکومت ہند کی جانب سے ’ایک ملک ایک انتخابات ‘ کے سلسلہ میں کئے جانے والے اقدامات ملک کے دستور اورجمہوری روح کے مغائر ہے ۔ جناب سید عزیز پاشاہ سابق رکن پارلیمنٹ و سیکریٹری کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا نے مرکزی حکومت کی جانب سے ایک ملک ایک انتخابات کو اختیار کرنے کے لئے کئے جانے والی کوششوں کی مذمت کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا اور کہا کہ مرکز میں موجود حکومت دستور ی اصولوں کو پامال کرتے ہوئے ملک سے جمہوریت کے خاتمہ اور برائے نام جمہوری نظام کو باقی رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔ جناب سید عزیز پاشاہ نے کہا کہ حکومت کی جانب سے ملک میں ایک ملک ایک انتخابات کا جائزہ لینے کے لئے ’’کووند کمیٹی ‘‘ تشکیل دی گئی تھی اور اس کمیٹی کو متعدد سیاسی جماعتوں اور قائدین کی جانب سے اس منصوبہ پر عمل آوری کی صورت میں ہونے والے امکانی خدشات سے واقف کروایا گیا تھا لیکن کمیٹی نے ان تجاویز اور خدشات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے حکومت کو رپورٹ پیش کی ہے اور اب حکومت اس رپورٹ کی بنیاد پر ملک میں ایک ملک اور ایک انتخابات کے سلسلہ میں بل پیش کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے جو کہ جمہوری اصولوں کی دھجیاں اڑانے کے مترادف ہے۔سابق رکن پارلیمنٹ جناب سید عزیز پاشاہ نے کہا کہ مرکز میں موجود حکومت ہندستان کو صدارتی جمہوریت میں تبدیل کرنے کی سمت پیشقدمی کر رہی ہے جبکہ ہماری پارلیمانی جمہوریت کو ہی گذشتہ 10 برسوں سے پامال کرتے ہوئے اپوزیشن کی آواز کو کچلنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔انہو ںنے بتایا کہ ہندستان ایک بین مذہبی ‘ ہمہ لسانی ‘ کثیر ثقافتی ملک ہے جہاں کئی طبقات سے تعلق رکھنے والے شہری آباد ہیں ان کے درمیان ایک ملک ایک انتخابات یا ایک ملک ایک قانون جیسے امور کا اطلاق ممکن نہیں ہوتا اسی لئے حکومت کو چاہئے کہ وہ اس طرح کے کسی بھی فیصلہ سے باز رہے جو کہ ملک میں عوام کو تقسیم کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔جناب سید عزیز پاشاہ نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے اس تفریق پیدا کرنے والے منصوبہ کے خلاف کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا دیگر ہم خیال بائیں بازو جماعتوں کے ساتھ متحدہ طور پر ملک بھر میں جدوجہد کا آغاز کرے گی اور اس منصوبہ پر عمل آوری سے حکومت کو باز رکھنے کے اقدامات کو یقینی بنائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ بائیں بازو جماعتیں ایوان اور ایوان کے باہر بھارتیہ جنتا پارٹی کے اس منصوبہ کے خلاف مہم چلائیں گے اور اس مہم میں جمہوری اقدار کی پاسبانی کرنے والی ان تمام سیاسی جماعتوں کو بھی ساتھ رکھا جائے گا جو کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ملک میں نقصان پہنچانے اور تقسیم کی راہ پر لے جانے والے منصوبہ کی مخالف ہیں۔ جناب سید عزیز پاشاہ نے بتایا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے ملک میں اقتدار حاصل کرنے کے بعد سے ہی مسلسل ہندستان کے جمہوری اصولوں‘ سیکولر اقدار‘ عوامی حقوق کے نظریہ کو نقصان پہنچانے کے اقدامات کئے ہیں اور اب ایک ملک ایک انتخابات کے نام پر ملک کے جمہوری شیرازہ کو بکھیرنے کی کوشش کر رہی ہے جسے ناکام کرنا ہر ہندستانی شہری کی ذمہ داری ہے۔3