الیکشن کمیشن کی وضاحت، تکنیکی مسائل کے سبب بعض ریاستوں میں شناختی کارڈ کے یکساں نمبرات
حیدرآباد 3 مارچ (سیاست نیوز) الیکشن کمیشن آف انڈیا نے دو علیحدہ ریاستوں میں ووٹر فوٹو شناختی کارڈ کے یکساں نمبر کے تنازعہ پر وضاحت کرتے ہوئے کہاکہ بھلے ہی ووٹر شناختی کارڈ کے نمبر یکساں ہوں لیکن رائے دہندہ صرف اپنے متعلقہ پولنگ اسٹیشن پر رائے دہی کا مستحق رہے گا۔ کمیشن نے واضح کیاکہ ووٹر شناختی کارڈ کے نمبرس میں یکسانیت کو دھاندلیوں پر مرکوز نہیں کیا جاسکتا۔ مختلف ریاستوں کے فوٹو شناختی کارڈ کے یکساں نمبرات کے تنازعہ پر الیکشن کمیشن نے وضاحت کرتے ہوئے کہاکہ بھلے ہی کسی تکنیکی خامی کے سبب کارڈ نمبر یکساں ہوسکتے ہیں لیکن دیگر تفصیلات بشمول اسمبلی حلقہ اور پولنگ اسٹیشن کی تفصیلات علیحدہ ہوتی ہیں۔ رائے دہندہ صرف اپنے متعلقہ پولنگ اسٹیشن پر ہی ووٹ کا حق استعمال کرسکتا ہے۔ کسی بھی ریاست یا مرکزی زیرانتظام علاقہ میں جہاں رائے دہندے نے اپنا نام فہرست میں شامل کرایا صرف وہیں پر وہ اپنے ووٹ کا استعمال کرسکتا ہے جبکہ یکساں نمبر سے وہ کسی اور ریاست میں رائے دہی میں حصہ نہیں لے سکتا۔ الیکشن کمیشن نے کہاکہ شناختی کارڈ کے نمبرس اور سیریز مختلف ریاستوں اور مرکزی زیرانتظام علاقوں کے رائے دہندوں کو الاٹ کئے گئے ہیں اور اس سلسلہ میں باقاعدہ میکانزم موجود ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ بعض ریاستوں کے چیف الیکٹورل آفیسرس نے ووٹر شناختی کارڈس کے لئے جو سیریز اختیار کی ہے اُس کے نتیجہ میں مختلف اسمبلی حلقہ جات کے شناختی کارڈس کے یکساں نمبرات کی گنجائش پیدا ہوگئی ہے حالانکہ اسمبلی حلقہ جات کا تعلق مختلف ریاستوں سے ہے۔ الیکشن کمیشن کے ویب سائٹERONET کے ذریعہ عہدیداروں کو اس میکانزم کے استعمال کا اختیار حاصل ہے۔ اس میکانزم کے ذریعہ وہ فوٹو شناختی کارڈ کے نقائص کو دور کرسکتے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے کہاکہ رائے دہندے خود بھی فوٹو شناختی کارڈ کے نقائص کو دور کرنے الیکشن کمیشن کے ویب سائٹ سے استفادہ کرسکتے ہیں۔ 1